خطبات محمود (جلد 14) — Page 259
خطبات محمود کر سکتا ہے۔۲۵۹ سال ۱۹۳۳ء اور اگر ایک دن میں کام ختم نہ ہو تو دوسرے دن کر سکتا ہے۔مگر یہ نہیں کہ کارکن خود تو کام نہ کرے اور ہر کام کا انحصار خلیفہ پر رکھ کر جماعت کو ایسی بات کا عادی بنائے جو نہایت مضر ہے۔یہ قانون قدرت ہے کہ جس طاقت کو بار بار استعمال کیا جائے اس کی عادت ہو جاتی ہے۔اور پھر اس سے کم طاقت کا اثر نہیں ہوتا۔ڈاکٹر لکھتے ہیں۔جو لوگ معدہ کی تقویت کیلئے دوائیں استعمال کرتے رہتے ہیں ان کا معدہ خراب ہو جاتا ہے۔اور انہیں زیادہ سے زیادہ طاقت کی دوا استعمال کرنے کی ضرورت رہتی ہے۔اسی طرح دوسرے کاموں میں ہوتا ہے۔مثلاً تبلیغ کا دن ہے۔اس کیلئے جب تک خلیفہ نہ کہے اگر کوئی نہ جائے تو اس طرح اس بات کی لوگوں کو عادت ہو جائے گی کہ ہر بات خلیفہ ہی کے تب اس پر عمل کریں اور یہ جماعت کو مختل کر دینے والی بات ہے۔یہی حال دوسری تحریکوں کا ہے۔جن کے متعلق خلیفہ سے کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو عمل کرنے کیلئے کہے۔اس کا نام تو تبریک رکھا جاتا ہے مگر دراصل کارکن اپنی غفلت اور ستی کو اس کے نیچے چھپاتے ہیں۔کوشش یہ ہونی چاہیئے کہ اس قسم کے اعلانات سے خلیفہ کی ذات علیحدہ رہے۔سوائے ان روحانی اور دینی تحریکات کے جو خلیفہ کے دل میں پیدا ہوں اور جن پر وہ جماعت سے عمل کرانا چا ہے۔اسی اصل کے ماتحت ناظروں کو کام کرنا چاہیے اور اسی اصل کے ماتحت لوکل انجمن کے کارکنوں کو بھی۔پس بجائے اس کے کہ میں یوم التبلیغ کے متعلق تحریک کروں کو ضمنی طور پر میرے یہ کہنے سے بھی تحریک تو ہو جائے گی، میں اظہار افسوس کرتا ہوا یہ کہتا ہوں کہ یہ طریق غلط ہے۔قادیان کے لوگوں کو اپنے عمل۔سے یہ بات ثابت کرنا چاہیے کہ وہ زندہ جماعت ہے اور دوسروں سے بڑھ کر اس میں زندگی پائی جاتی ہے۔اتفاقاً اس وقت میری نظر پڑ گئی ہے۔جنہوں نے مجھے رقعہ لکھا تھا کہ لتبلیغ کے متعلق تحریک کروں، وہ خود اڑہائی بجے آئے ہیں۔گویا میری تحریک کے دوسرے تو محتاج ہیں لیکن وہ نہیں۔اور میری تحریک دوسروں کیلئے تھی ان کیلئے نہ تھی۔آج خطبہ جمعہ جلدی بھی شروع نہیں ہوا کہ وہ موقع پر آنے سے رہ گئے ہوں بلکہ دیر سے شروع ہوا ہے۔پچھلے جمعہ کی طرح اگر پہلے شروع ہوتا تو اس وقت تک ختم ہو کر نماز بھی شروع ہو گئی ہوتی بے شک مومن کے کاموں میں چستی ہونی چاہیے اور ایسے ذرائع استعمال کرنے چاہئیں کہ لوگوں میں غفلت اور سُستی پیدا نہ ہو۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہزاروں دفعہ غفلت چستی کا موجب بن جاتی ہے۔اس لئے بعض دفعہ بعض لوگوں کی غفلت برداشت کرلینی چاہیئے۔میں یوم