خطبات محمود (جلد 14) — Page 246
سال خطبات محمود شخص ہی اعتراض جمعہ پر بھی ہو سکتا ہے کیونکہ جمعہ کے روز بھی حکم ہے کہ لوگ اکٹھے ہو کر نماز پڑھیں اور اسلام اس کا حکم دیتا ہے۔پھر عیدین پر بھی یہ اعتراض ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں بھی ہے ہے کہ اردگرد کے گاؤں والے ایک خاص جگہ اکٹھے ہو کر عبادت کریں۔اسلام نے ان امور کو قائم رکھا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اتحاد عمل سے برکت پیدا ہوتی ہے۔فرداً فرداً بھی بیشک لوگ تبلیغ کرتے ہیں۔لیکن ذہنی طور پر اگر یہ خیال نہ ہو کہ سارے ہی تبلیغ کر رہے ہیں تو برکت میں کمی آجاتی ہے۔اگر کوئی شخص یہ خیال کرے گا کہ آج ہر تبلیغ کر رہا ہے تو وہ سمجھے گا کہ آج مقابلہ کا دن ہے۔اور وہ کوشش کرے گا کہ تبلیغ میں دوسروں سے پیچھے نہ رہ جائے۔اور اس طرح روزانہ کی نسبت زیادہ عمدگی سے تبلیغ کے فرائض سرانجام دے گا۔پس یوم التبلیغ ایک نہایت ہی ضروری دن ہے اور اس میں فتنہ کی کوئی صورت نہیں۔مگر اس میں بھی شبہ نہیں کہ ہم اپنے اعمال سے اس میں اعتراض کی صورت پیدا کرسکتے ہیں۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہر چیز سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔اور بعض کی طبائع جوشیلی ہوتی ہیں۔گو مقصد ان کا ناجائز فائدہ اٹھانا نہ ہو۔مگر جوش کی وجہ سے ناجائز بات ان سے ظہور میں آجاتی ہے۔جیسا کہ ایک صحابی کے متعلق آتا ہے۔کہ جب رسول کریم ال فتح مکہ کیلئے تشریف لا رہے تھے تو حضرت عباس نے ابو سفیان کو پکڑ کر رسول کریم ان کی خدمت میں پیش کیا۔جس وقت اسلامی لشکر آگے چلا تو ابو سفیان کہنے لگا۔میں بھی دیکھوں لشکر کتنا بڑا ہے۔وہ ایک طرف کھڑا ہو کر دیکھنے لگا۔لشکر اپنے اپنے پھریرے اور جھنڈے کے نیچے جا رہا تھا کہ اتنے میں ایک انصاریوں کا دستہ گھوڑے دوڑاتا ہوا پاس سے گزرا۔وہ انصاری اس شان اور تبختر کے سے جارہے تھے کہ ابوسفیان پوچھنے لگا یہ کون ہیں۔سالار لشکر نے بھی یہ سن لیا۔وہ کہنے لگا۔ہم کون ہیں؟ اس کا ابھی پتہ لگ جائے گا جب ہم مکہ پہنچ کر تمہارے رشتہ داروں کی کھوپڑیاں توڑیں گے۔اس نے رسول کریم ال سے شکایت کی کہ آپ تو کہتے تھے کہ مکہ میں خون نہیں بہایا جائے گا لیکن یہاں ابھی سے جبکہ مکہ میں لشکر پہنچا نہیں۔کھوپڑیاں توڑنے کے ارادے ہو رہے ہیں۔رسول کریم تعالی نے اس صحابی کو معزول کر دیا اور اس کے بیٹے کو سالار لشکر بنادیا ہے۔اس طرح آپ نے قبیلہ کے احساسات کا خیال بھی رکھ لیا اور قصوروار کو سزا بھی دے دی۔جس شخص نے یہ فقرہ کہا وہ منافق نہیں بلکہ مومن تھا لیکن جوشیلی طبیعت رکھتا تھا۔اسی طرح کا ہر حصہ