خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 17

خطبات محمود 16 سال ۱۹۳۳ نو ایک گلی میں چلتے چلتے یکدم رک جائیں اور پھر دیکھیں کہ ارد گرد کیا چیزیں ہیں تو کئی چیزیں ایسی دکھائی دیں گی جو پہلے کبھی خیال میں بھی نہیں آئی ہوں گی، حالانکہ سالہا سال سے اس گلی میں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اتنی مختلف انواع کی چیزیں پیدا کی ہیں کہ انسان کو ان سب پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا اور انسان جو کچھ دیکھتا ہے اس کے ہزارویں بلکہ لاکھویں حصہ پر بھی غور نہیں کرتا۔ہوا کا ہر جھونکا جو ہمارے جسم کو لگتا ہے، وہ ایک اچھا یا بُرا اثر ہمارے اندر ضرور پیدا کرتا ہے۔اسی طرح ہر ہوا کا کش جو ہم ناک سے لگاتے ہیں، وہ اچھی یا بری کیفیت پیدا کرتا ہے۔اسی طرح ہر دفعہ جب ہم اپنی آنکھ جھپکتے ہیں اور نور کی شعاعوں یا ظلمت کی تاریکی کو دیکھتے ہیں تو دل اور دماغ اور جسم اور روح پر اچھا یا بُرا اثر ضرور قائم ہوتا ہے ، مگر ہم کتنی دفعہ اس اثر کو محسوس کرتے ہیں۔وہ ہوا کا جھونکا جو ہمارے اندر بیماری کے جرمز پیدا کر دیتا ہے یا نمونیہ کی طرف جسم کو راغب کر دیتا ہے یا وہ پانی کا قطرہ جس کے پیتے ہی ہیضے کی طرف طبیعت مائل ہو جاتی ہے یا وہ سیدھا سادھا سانس جو رسل کے جراثیم لے کر ہمارے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ہم کب اس کے اثرات محسوس کرتے ہیں۔ہمیں تو یہ پتہ بھی نہیں لگتا کہ ہم نے ایسا سانس لیا ہے جو کل ہمیں بد ہضمی کا شکار بنادے گا۔یا ایسا قطرہ پانی کا پیا ہے جو ہیضہ کا شکار کر دے گا۔پس اگر ہم غور و فکر سے کام لیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ کتنی ہی ایسی چیزیں ہین جن پر غور کرنے کا ہمیں موقع نہیں ملتا۔تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ غافل انسان اِدھر توجہ نہیں کرتا۔اگر تم یہ کہو گے تو یہ تمہاری بیوقوفی ہوگی۔کیونکہ اگر انسان تمام کی تمام چیزوں غور کرنے لگے تو نہ صرف یہ کہ اس کا علم نہ بڑھے بلکہ اور بھی کم ہو جائے۔مثلا اگر وہ یہی سوچنے لگے کہ ہوا کا جھونکا جو مجھے لگا ہے، اس نے اچھا اثر پیدا کیا ہے یا بُرا۔اور اُٹھتے بیٹھے کھاتے پینے، سوتے جاگتے ، چلتے پھرتے ہیں ایک خیال اس پر سوار رہے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ نہ تجارت کر سکے گا نہ زراعت نہ ملازمت کر سکے گا نہ کوئی اور کاروبار - وہ یہی سوچتا رہے گا کہ یہ ہوا کا جھونکا جو مجھے لگا تھا' اچھا تھا یا برا تھا۔اب غور کرو! اس طرح سوچتے رہنے سے اس کا علم بڑھے گا یا کم ہو گا۔اسی طرح اگر ہم ہر پانی کے قطرہ کے متعلق یہ سوچنے لگیں کہ اس نے ہمارے جسم پر اچھا اثر پیدا کیا ہے یا بُرا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم بجائے علم میں ترقی کرنے کے علم سے محروم رہ جائیں گے۔پس جو