خطبات محمود (جلد 14) — Page 180
خطبات محمود | A سال ۱۹۳۳ء تھی۔اور اپنے اخراجات میں ہر طرح سے تنگی کرکے اس کیلئے کچھ نہ کچھ بچاتا کہ خود قادیان جاکر حضور کی خدمت میں پیش کروں۔اور بہت سا رستہ میں پیدل طے کرتا تاکہ کم سے کم خرچ کر کے قادیان پہنچ سکوں۔پھر ترقی ہو گئی اور ساتھ اس کے یہ حرص بھی بڑھتی گئی۔آخر میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ میں حضور کی خدمت میں سونا نذر کروں۔جو تھوڑی سی تنخواہ میں سے علاوہ چندہ کے پیش کرنا چاہتا تھا۔لیکن جب تھوڑ تھوڑا کر کے کچھ جمع کر لیتا تو پھر گھبراہٹ سی پیدا ہوتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھے اتنی مدت ہو گئی ہے، اس لئے قبل اس کے کہ سونا حاصل کرنے کیلئے رقم جمع ہو، قادیان چلا آتا اور جو کچھ پاس ہوتا۔حضور کی خدمت میں پیش کر دیتا۔آخر یہ تین پونڈ جمع کئے تھے اور ارادہ تھا کہ خود حاضر ہو کر پیش کروں گا کہ آپ کی وفات ہو گئی۔گویا اُن کے تمیں سال اس حسرت میں گزر گئے۔انہوں نے کیلئے محنت بھی کی لیکن جس وقت اس کی توفیق ملی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوچکے تھے۔اندازہ ہو سکتا شخص۔بظاہر یہ کتنی چھوٹی سے بات ہے۔اُس وقت بھی سلسلہ کے کاموں پر ڈیڑھ دو ہزار روپیہ ماہوار خرچ ہوتا تھا۔اور اب تو لاکھوں روپیہ سالانہ کا خرچ ہے اور ظاہر ہے کہ اس قدر اخراجات میں ان کے سونے کی کیا حیثیت ہو سکتی تھی۔لیکن اس سے ان کے عشق کا ہے۔ایک شخص اسی آرزو میں عمر گزار دیتا ہے کہ روپیہ جمع کرکے سونا نذر کرے۔سوچنا چاہیے کہ آج کتنے ہیں جو اس سے ہزارواں حصہ بھی عشق رکھتے ہیں۔ایک نے تمہیں سال تک کوشش کی۔اب کتنے ہیں جو سلسلہ کیلئے قربانی کرنے کیلئے ایک ماہ بھی اس خواہش میں گزارتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ اس وقت بھی ایسے لوگ ہیں۔مگر ہیں جن میں قربانی کا مادہ نہیں۔یہی چیز تھی۔جو خدا تعالیٰ نے مجھے رویا میں دکھائی اور بتایا کہ جب تک خود کشی تک تمہاری قربانی نہ پہنچ جائے۔جس وقت دشمن یہ خیال نہ کرنے لگے اب یہ مرگئے اُس وقت تک کامیابی محال ہے۔پس یہ اللہ تعالی کا پیغام ہے جو میں پہنچاتا ہوں۔اور یہ کوئی نیا پیغام نہیں وہی ہے جو قرآن کریم میں موجود ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں موجود ہے، آپ کے الہامات میں موجود ہے۔مگر اللہ تعالی نے پھر مجھے تازہ پیغام دیا ہے جو میں نے آپ لوگوں کو پہنچادیا ہے۔رسول کریم کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ بارش ہوتی تو آپ اس کا قطرہ زبان پر لے کر فرماتے کہ یہ میرے رب