خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 179

خطبات محمود ۱۷۹ سال ۱۹۳۳ء ایک بار جو فرصت ملی تو اطلاع دینے کا وقت نہ تھا۔اس لئے آپ بغیر اطلاع دیئے ہی چل پڑے۔اور کپور تھلہ کے سٹیشن پر جب اُترے تو ایک شدید مخالف نے آپ کو دیکھا جو آپ کو پہچانتا تھا۔اگر چہ وہ مخالف تھا مگر بڑے آدمیوں کا ایک اثر ہوتا ہے۔منشی اروڑا صاحب سناتے ہیں کہ ہم ایک دُکان پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ وہ دوڑا دوڑا آیا اور کہنے لگا تمہارے مرزا صاحب آئے ہیں۔یہ سن کر جوتی اور پگڑی وہیں پڑی رہی اور میں ننگے پاؤں اور ننگے سر سٹیشن کی طرف بھاگا۔مگر تھوڑی دور جاکر خیال آیا کہ ہماری ایسی قسمت کہاں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے ہاں تشریف لائیں۔اطلاع دینے والا مخالف ہے، اس نے مخول نہ کیا ہو۔اس پر میں نے کھڑے ہو کر اسے ڈانٹنا شروع کردیا کہ تو جھوٹ بولتا ہے، مذاق اُڑاتا ہے۔مگر پھر خیال آیا کہ شاید آہی گئے ہوں۔اس لئے پھر بھاگا۔پھر خیال آیا کہ ہماری ایسی قسمت نہیں ہو سکتی۔اور پھر اسے کوسنے لگا۔وہ کہے مجھے بُرا بھلا نہ کہو۔میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں اس پر پھر چل پڑا۔غرضیکہ میں کبھی دوڑتا اور کبھی کھڑا ہو جاتا۔اسی حالت میں جارہا تھا کہ سامنے کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لارہے ہیں۔تو یہ جنون والا عشق ہے۔ایک طرف تو اتنی محبت ہے کہ ننگے پاؤں اور ننگے سر بھاگ اٹھے مگر پھر جب اپنے عاشق اور ان کے معشوق ہونے کا خیال آتا تو دل کہتا کہ وہ ہمارے پاس کہاں آسکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام جب فوت ہوئے ہیں تو کچھ عرصہ بعد منشی اروڑے خان صاحب قادیان آگئے تھے۔ایک دفعہ آپ نے مجھے پیغام بھیجا کہ میں ملنا چاہتا ہوں۔میں جو اُن ملنے کیلئے باہر آیا تو دیکھا اُن کے ہاتھ میں دو یا تین اشرفیاں تھیں۔جو انہوں نے یہ کہتے ہوئے مجھے دیں کہ اماں جان کو دے دیں مجھے اس وقت یاد نہیں کہ وہ کیا کہا کرتے تھے۔مگر اماں جان یا اماجی بہرحال ماں کے مفہوم کا لفظ ضرور تھا۔اس کے بعد انہوں نے رونا شروع کیا۔اور چھینٹیں مار مار کر اس شدت کے ساتھ رونے لگے کہ ان کا تمام جسم کانپ رہا تھا۔مجھے خیال تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یاد انہیں ڈلا رہی ہے مگر وہ کچھ اس بے اختیاری سے رورہے تھے کہ میں نے سمجھا کہ اس میں کسی اور بات کا بھی دخل ہے۔غرضیکہ وہ دیر تک کوئی پندرہ بیس منٹ بلکہ آدھ گھنٹہ تک روتے رہے۔میں پوچھتا رہا کہ کیا بات ہے۔وہ جواب دینا چاہتے مگر رقت کی وجہ سے جواب نہ دے سکتے۔آخر جب ان کی طبیعت سنبھلی تو انہوں نے کہا کہ میں نے جب بیعت کی، اُس وقت میری تنخواہ سات روپیہ