خطبات محمود (جلد 14) — Page 151
خطبات محمود ۱۵۱ سال ۱۹۳۳ء ہوتی ہے تو ایک شخص کی نماز بھی اس کیلئے رُسوائی کا موجب ہو جاتی ہے اور دوسرے کا عیب بھی اُس کی رسوائی کا ذریعہ نہیں بنتا۔اصل چیز یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کا ہو جائے اور جب کوئی شخص خداتعالی کا ہو جاتا ہے تو اُس کے عیب چھپائے جاتے ہیں اور دنیا و آخرت میں اگر بظاہر اس کو کوئی ذلت بھی پہنچتی ہے تو اُس کے بدلہ میں اور بیسیوں عزت کے سامان پیدا کردئے جاتے ہیں اور جو شخص اپنے نفس کیلئے کام کرتا ہے اُس کے سامنے اگر عزت کے سامان بھی ہوں تو وہ اُس کیلئے ذلت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔پس اپنی نیتوں کو درست کرو اور خدا کیلئے کام کرنے کی عادت ڈالو، چوہدری بننے کی کوشش نہ کرو۔دیکھو محمد ال اصل عزت کے مالک تھے مگر انہیں مکہ کا ایک کتا بھی بھونک ملے۔لیتا تھا۔اس کے مقابلہ میں جو اپنے آپ کو عزتوں والا سمجھتے تھے اور جو رسول کریم ا گالیاں دیا کرتے تھے ان کا کیا حشر ہوا۔پس اصل عزت وہی ہے جو خدا کی طرف۔کوئی شخص خداتعالی کا ہو جاتا ہے تو اُس کی ذلت بھی عزت میں تبدیل ہو جاتی ہے اور جب کوئی خدا کا نہیں ہوتا تو اُس کی عزتیں بھی ذلت میں بدل جاتی ہیں۔الفضل ۸ - جون ۱۹۳۳ء) له مسلم كتاب الامارة باب النهى عن طلب الامارة والحرص عليها ه (۱) روح المعانى الجزء الخامس صفحه ۶۷ مکتبه امدادیه ملتان ) الصارم المسلول على شاتم الرسول صفحه ۴۰٬۳۹ ابن تیمیه طبعة اولی حیدر آباد دکن س النساء: ٦٠ ته ال عمران: ۱۹۵ هم الماعون: ۵