خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 138

خطبات محمود ۱۳۸ سال ۱۹۳۳ء۔یہ معلوم نہیں کر سکتا کہ اسے خدا زیادہ پیارا ہے یا اپنے بیوی بچے۔لا الہ کے معنے یہ ہیں کہ خدا کے مقابلہ میں وہ کسی چیز کو کوئی وقعت نہیں دیتا۔صرف زبان کا اقرار کچھ نہیں، زبان سے جھوٹ موٹ کہنا کوئی خوبی نہیں، اس میں تو ایک دیہاتی زیادہ ہنرمند ہوتا ہے۔ایک تحصیلدار یا گرداور یا کوئی اور افسر اگر اسے ایک کام کہتا ہے تو وہ جواب دیتا ہے کہ ہاں جی آپ سے ہمیں کون عزیز ہے، ضرور کام کر دیا جائے گا۔حالانکہ واقعہ یہ ہوتا ہے کہ اگر مقابلہ کا وقت آئے اور اس کے کسی بچہ یا رشتہ دار کے مقابلہ میں ایک ڈپٹی کی جان آجائے تو وہ اس کی کوئی پرواہ نہ کرے گا اور اپنے بچہ کو بچانے کی کوشش کرے گا۔اسی طرح ان لوگوں کا حال ہے۔زبان سے تو کہتے ہیں مگر بیوی بچوں کے مقابلہ میں، اپنے نفس کے مقابلہ میں خدا تعالی کی بات کو ترجیح نہیں دیں گے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ انہیں لا اله پر ایمان نہیں۔اس میں کون سی باریک بات ہے جو سمجھ میں نہیں آسکتی۔یہ چیز ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے۔اور جب تک یہ خیال رہے گا کہ اس کیلئے علم کی ضرورت ہے، یہ حاصل نہ ہو سکے گی۔وہ جو یہ کہتا ہے کہ ہم دین کو بغیر علم کے نہیں سیکھ سکتے، وہ دنیا کو گمراہ کرنے والا ہے۔علم کے اور فوائد ہیں مگر دین انسان کی فطرت میں ہے۔قرآن کریم جس طرح ظاہری صورت میں ہے، اسی طرح انسان کے دل پر بھی لکھا ہوا ہے اور کوئی بات نہیں جو باہر سے کسی سے سیکھنی پڑے۔پس ضروری ہے کہ ہماری جماعت میں وہ تبدیلی پیدا ہو جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی نصرت حاصل ہوتی رہے۔لیکن اگر دین نہیں تک رہے کہ لوگ خطبے سننے کیلئے آجائیں تو یہ کوئی فائدہ مند چیز نہیں۔خطبوں میں تو غیر احمدی بھی بکثرت آجاتے ہیں۔لیکن اگر سن کر اور کپڑے جھاڑ کر چلے گئے اور کسی بات پر عمل نہ کیا تو آنے سے کیا فائدہ ہمیں کہا تو یہ گیا تھا کہ دنیا میں جاؤ مگر چکنے گھڑے کی طرح رہو۔لیکن ہم میں سے بعض دنیا میں ایسے دھنس گئے کہ دین کی مجلسوں کیلئے چکنے گھڑے ہو گئے۔پس جب تک ہر احمدی کو خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، امیر ہو یا غریب، بڑا ہو یا چھوٹا یہ محسوس نہیں ہوتا کہ دین کا سمجھنا مشکل نہیں، اسلام کا وہ ایسا ہی مخاطب ہے جیسے محمد مصطفی ، جب تک اس کے اندر ایسی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی کہ اللہ تعالیٰ کی محبت سب محبتوں پر غالب ہو، اُس وقت تک اللہ تعالیٰ کے وہ خاص فضل نازل نہیں ہو سکتے جن کے بغیر یہ کام جو ہمارے سپرد کیا گیا ہے، اس کا ہونا مشکل ہے۔یہ تبدیلی کرو پھر دیکھو تمہاری روح میں کتنی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے۔دوسرے تمہاری باتوں کو کس شوق سے پر