خطبات محمود (جلد 14) — Page 124
خطبات محمود ۱۲۴ سال ۱۹۳۳ء نہیں ہل سکتے۔پھر وہ خیال پیش کرتا ہے کہ اس سے ہندوؤں اور سکھوں کی زمین و آسمان مراد ہوگی۔اس کے بعد مجھے حضرت اُم المؤمنین کی بیماری کی اطلاع پہنچی تو اس رویا کی طرف میرا خیال گیا اور رستہ میں میں نے دوستوں کو یہ سنایا لیکن اللہ تعالٰی نے انہیں شفا دے دی۔ڈلہوزی سے میری واپسی پر مولوی سید عبدالستار صاحب جو بہت مخلص، علم اور خدارسیدہ انسان تھے، ان کی وفات ہو گئی تو میں نے اس خواب کو اُس پر چسپاں کیا۔اور اگرچہ میری موجودگی میں وہ فوت ہوئے مگر میں نے خیال کیا کہ وہ بیمار تو میری عدم موجودگی میں ہوئے تھے۔اس لئے وفات خواہ میری موجودگی میں ہوئی، یہ رویا پورا ہو گیا۔مگر رویا میں یہ تھا کہ میں پہاڑ پر نہیں ہوں بلکہ میدانی علاقہ میں ہوں اور وفات میری غیر حاضری میں ہوئی ہے۔پھر جس دن ساره بیگم کی وفات ہوئی ہے، اُس دن صبح جب میں اٹھا تو میری زبان پر جاری تھا مُردہ قادیان یا مردہ قادیانی۔میں نے اس سے خیال کیا کہ مخالفین جو کہتے ہیں، قادیانی مُردہ باد شاید اس سے یہ مراد ہو کہ کوئی مخالف ہمارے خلاف کوئی کتاب لکھے گا یا لیکچر دے گا۔اور یہ خیال اتنا غالب تھا کہ جب مجھے بیماری کا تار پہنچا تو پھر بھی اس طرف میرا خیال نہیں گیا۔پھر رسید حبیب اللہ صاحب نے اسی دن خواب دیکھا کہ ہمارے خاندان میں کوئی وفات ہو گئی ہے۔ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب نے مجھے لکھا کہ میں نے آپ کی بعض بیویوں کی وفات کے متعلق خواب دیکھا ہے۔میاں عطاء اللہ صاحب پلیڈر نے لکھا کہ اُسی دن جس دن اخبار پہنچا جس میں یہ خبر درج تھی مجھے خواب میں ایک مزار دکھایا گیا جس پر میرا نام درج تھا۔میں گھبرا کر اُٹھ بیٹھا اور تھوڑی دیر کے بعد ہی اخبار کا وہ پرچہ پہنچ گیا جس میں یہ خبر درج تھی۔قاضی عبدالرحیم صاحب نے اپنی بیوی کا ایک عجیب کشف لکھا ہے جسے وہ ہذیان سمجھتے رہے کیونکہ ان کی بیوی گزشتہ جمعہ کے روز سخت بیمار تھی۔اُن کی لڑکی امتہ العزیز کے ساره بیگم مرحومہ کے ساتھ بہت تعلقات تھے۔مولوی کا امتحان دونوں نے اکٹھے دیا تھا۔آخری بار میں نے اسے سارہ بیگم مرحومہ کے ساتھ ہی دیکھا تھا۔اور انہوں نے مجھے بڑے اصرار کے ساتھ کہا تھا کہ یہ کچھ بیمار ہیں، انہیں ضرور کوئی دوائی دو۔قاضی صاحب نے لکھا ہے کہ جمعہ کے روز ان کی بیوی بہت بیمار تھیں۔اور بار بار کہہ رہیں تھیں کہ امتہ العزیز آئی ہے اور کہتی ہے کہ میں شام تک سارہ بیگم کے پاس رہی ہوں اور انہیں لینے آئی ہوں۔وہ بار بار اس بات کو زہراتی تھیں اور کہتی تھیں کہ مجھے سارہ بیگم کے پاس لے چلو۔میں ان