خطبات محمود (جلد 14) — Page 69
خطبات محمود 44 سال ۱۹۳۳ء دینے کیلئے تیار ہوں اور قرآن سے دشمنی کیا ایک ایک لفظ پر عمل کرنا جزو ایمان قرار دیتا ہوں۔اور بنی نوع انسان سے عداوت کیسی۔میں تو چوہڑوں اور چماروں کیلئے بھی قربان ہونے کو تیار ہوں۔تو پھر یہ سمجھ لو کہ یہ گالیاں آپ کو نہیں مل رہیں بلکہ اسلام کے منکروں کو مل رہی ہیں۔اور اگر تمہیں مخاطب کر کے دی جاتی ہیں تو وہ جھوٹ کا پلندہ ہیں جو قیامت کے دن تمہارے لئے شفاعت کا موجب ہو جائے گا۔اگر ہم عام طور پر اشاعتِ اسلام میں لگے رہتے ہیں، اگر ہم عام طور پر قرآن کریم کے احکام پر عمل کرتے رہیں تو بھی جو کمزوریاں ہمارے اندر رہیں گی ان کی شفاعت کیلئے خدا تعالیٰ کے سامنے "زمیندار" کے پرچے آجائیں گے اور خدا کہے گا کہ جاؤ ان گالیوں کے بدلے میں نے اپنے بندوں کو معاف کر دیا۔پس تم اپنے دل کی کیفیت کو بدل ڈالوں اور جیسا کہ میں نے ایک پچھلے خطبہ میں کہا تھا مومن اللہ تعالیٰ کا عاشق ہوتا ہے۔اپنے اندر عشق پیدا کرو۔رسول کریم اے کی مثال دیکھ لو جب آپ طائف میں تبلیغ اسلام کیلئے گئے تو دشمنوں نے آپ پر پتھر برسائے۔آپ اس تکلیف کی وجہ سے لہولہان ہو گئے اور جب آپ آرہے تھے تو آپ کو الہام ہوا کہ اے محمد ! اگر تو چاہے تو ابھی ان پر عذاب نازل کر کے ان کا تختہ الٹ دوں۔آپ نے فرمایا انہوں نے جو کچھ کیا ناواقفی کی وجہ سے کیا ہے - کون کہہ سکتا ہے کہ ہم لوگ رسول کریم ﷺ سے زیادہ تبلیغ کرنے والے ہیں۔اگر رسول کریم ﷺ کی قوم تبلیغ کے باوجود جاہل کہلا سکتی تھی تو ہماری قوم تبلیغ کرنے کے باوجود کیوں جاہل نہیں کہلا سکتی۔جتنا جتنا کوئی شخص گند ظاہر کرتا ہے اُتنا ہی زیادہ وہ اپنے آپ کو قابل رحم ثابت کرتا ہے۔اگر کوئی شخص زیادہ بیمار ہو جائے تو کیا تم اس کا سر پھوڑ دیا کرتے ہو۔یا زیادہ لائق ڈاکٹر سے اس کا علاج کراتے ہو۔پس اس وقت وہ جتنی زیادہ مخالفت کرتے ہیں تمہارا فرض ہے کہ تم اتنے ہی جوش سے ان کیلئے دعائیں کرو۔اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری سے کام لو اور اپنے حلقہ تبلیغ کو اور زیادہ وسیع کردو۔جس وقت تمہیں یہ چیزیں حاصل ہو جائیں گی، تمہاری کامیابی یقینی ہوگی۔خطرات اور گالیاں ہمیشہ آرام کی حالت میں تکلیف دیتی ہیں اور اگر انسان دیوانہ وار تبلیغ کرتا رہے تو یہ گالیاں اُسے بُری معلوم نہیں ہوتیں۔ریڈروں میں ہی ہم قصہ پڑھا کرتے تھے کہ کسی عورت کا بچہ عُقاب لے گیا اور پہاڑ کی چوٹی پر جابیٹھا وہ چوٹی اتنی بلند تھی اور ایسی طرز پر واقعہ تھی کہ کوئی انسان اس پر چڑھ نہیں سکتا تھا۔مگر جب ماں نے دیکھا کہ اس کا بچہ