خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 66

خطبات محمود ۶۶ سال ۱۹۳۳ء منکرین دکھاتے چلے آئے ہیں۔اُن کا فرض ہے کہ وہ ابراہیم کے منکروں کی طرح ہمارے لئے آگ جلائیں اور اُس میں ڈال دیں۔اُن کا فرض ہے کہ وہ موسیٰ کے منکروں کی طرح ہمارے پلوٹھوں کا ہلاک کردیں۔اُن کا فرض ہے کہ وہ عیسیٰ کے منکروں کی طرح ہمیں صلیب یہ لٹکائیں۔پھر اُن کا فرض ہے کہ وہ رسول کریم ای کے منکروں کی طرح ہمیں اپنے وطن سے بے وطن کردیں۔ہمیں موت کے گھاٹ اتارنے کی کوشش کریں۔اور ہر رنگ میں تکلیف اور اذیت پہنچا کر خیال کریں کہ وہ نیکی کا کام کر رہے ہیں۔اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ہر ایک مخالف کا حق ہو گا کہ ہم سے پوچھے اگر مرزا صاحب نبی تھے تو کیا ان کے منکروں نے وہ کام بھی کئے جو دوسرے انبیاء کے منکر کرتے چلے آئے ہیں۔کیا تم اس وقت یہ جواب دو گے ہم نے انہیں نصیحت کر کے روک رکھا تھا۔اور اگر یہی جواب دو گے تو کون اسے تسلیم کرے گا۔پس جو اُن کا کام ہے وہ اُنہیں کرنے دو اور جتنا شور وہ بچانا چاہتے ہیں، انہیں مچانے دو۔اور یاد رکھو کہ وہ جتنی زیادہ ہماری مخالفت کرتے ہیں، قرآن مجید کی اس آیت کی اتنی ہی زیادہ صداقت ظاہر کرتے ہیں کہ يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِّنْ رَّسُولِ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ ون کے لوگوں کی حالت پر افسوس ہے کہ جب بھی ان کے پاس ہمارا کوئی رسول آیا انہوں نے اس سے ہنسی اور مذاق کیا۔پس وہ جس قدر ہم پر ہنسی اڑاتے ہیں، جتنی زیادہ ہماری مخالفت کرتے ہیں، اُسی قدر وہ ہماری تائید اور صداقت میں ثبوت مہیا کرتے ہیں۔اور عظمند کیلئے یہی مخالفت بعض دفعہ ماننے کا موجب ہو جاتی ہے۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ کا ہی واقعہ ہے۔جب آپ نے مختلف بادشاہوں کو تبلیغی چٹھیاں لکھیں تو اُس وقت ہر قل نے کہا کہ عرب کا کوئی آدمی ملواؤ جس سے میں اس نبی کے حالات دریافت کروں۔ابوسفیان حاضر ہوا تو اُس نے پوچھا اس کی قوم اسے مانتی ہے یا نہیں؟ ابو سفیان نے کہا نہیں۔نہ صرف مانتی نہیں بلکہ مخالفت کرتی ہے۔ہر قل نے کہا یہی انبیاء کے مخالفین کیا کرتے ہیں شہ - اُس وقت قل نے یہ نہیں کہا کہ چلو جب خود اُس کی قوم اسے نہیں مانتی تو میں کیوں مانوں۔بلکہ اس نے کہا کہ اگر قوم نہیں مانتی تو یہ اُس کی صداقت کا ثبوت ہے کیونکہ ہر نبی کی قوم میں اس کی مخالف ہوا کرتی ہے۔پھر علاوہ اس کے ان گالیوں کا ایک اور فائدہ بھی ہے جس سال میں خلیفہ ہوا اُسی سال میں نے اپنی جماعت کے علماء کو جمع کیا تھا اور میں نے انہیں کہا کہ ہم سب سے ایک