خطبات محمود (جلد 14) — Page 64
خطبات محمود ۶۴ سال ۱۹۳۳ - کر تو سب کو صبر آجاتا ہے ہے۔غرض مصائب کا وقت ہی ہوتا ہے جب صبر کا موقع ہوتا ہے۔اور اس موقع پر صبر کرنے کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل نازل فرمایا کرتا ہے پس ان باتوں کی پرواہ نہ کرو اور دشمن جو کچھ کہتا یا کرتا ہے، اسے کہنے اور کرنے دو۔صبر اور حلم - ان تمام باتوں کو برداشت کرو۔اللہ تعالی تمہارا اس ذریعہ سے امتحان لینا چاہتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی فرمایا ہے۔گالیاں سن کر دعا رو پا کے دکھ آرام دو کبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار یہی مومن کی نشانی ہوتی ہے۔اس خیال کو جانے دو کہ گورنمنٹ سے امدد کی اپیل کی جائے بعض نے مجھے بھی کہا ہے کہ "زمیندار" کے متعلق گورنمنٹ کو توجہ دلائی جائے۔مگر میں نے کہا یہ فضول بات ہے۔گورنمنٹ ہماری مخالفت سے کس کس کو روکے گی۔آج اس نے فرض کرو پنجاب میں اس مخالفت کو روک بھی لیا تو کل صوبہ سرحد میں ہماری مخالفت شروع ہو جائے، پرسوں یوپی میں شروع ہو جائے، پھر کون ہماری حفاظت کرے گا۔اور اگر فرض کرلیا جائے کہ گورنمنٹ آف انڈیا ہندوستان میں سے ہماری مخالفت کو دور بھی کر دے تو کل اگر چین میں ہماری مخالفت شروع ہو جائے، افغانستان ہمارا دشمن ہو جائے، مصر اور شام میں عداوت کی آگ مشتعل ہو جائے، پھر کس گورنمنٹ سے کہیں گے۔پس یہ طریق فضول ہے۔اگر افغانستان کے احمدی گالیاں کھا سکتے بلکہ اپنی جانیں احمدیت کے راستہ میں قربان کرسکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم گالیوں سے گھبرا جائیں اور اگر ہم گھبراتے ہیں تو اس کا صاف طور پر یہ مطلب ہے کہ ہم بُزدل ہیں۔انگریزی حکومت اگر خود اپنی فرض شناسی کا ثبوت دیتے ہوئے کوئی قدم اُٹھاتی ہے تو یہ اس کا اپنا کام ہے۔اگر وہ مجھتی ہے کہ احمدی ظالم ہیں تو وہ خود دخل دے اور اگر جھتی ہے کہ غیراحمدی ظلم کر رہے ہیں تو وہ آپ دخل دے۔اس طرح اگر وہ دخل دے گی تو ہم سمجھیں گے کہ یہ خدائی فعل ہے۔اور اگر وہ دخل نہیں دیتی تب بھی ہم یہی سمجھتے ہیں کہ یہ خدائی فعل ہے۔پس گالیوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔اور اگر گالیاں سن کر تمہیں تکلیف ہوتی ہے تو قرآن مجید نے اس کا علاج بھی بتا دیا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ جہاں گالیاں دی جارہی ہوں وہاں سے اُٹھ کر چلے آنا چاہیئے۔اس اصل کے مطابق جس اخبار میں تمہیں گالیاں دی جاتی۔