خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 57

خطبات محمود ۵۷ سال کے برابر ہو گا۔اسی طرح ہم جھوٹے کو جھوٹا اس کے فعل کی شناخت کی وجہ سے کہتے ہیں' نہ اس وجہ سے کہ وہ کبھی سچ بولتا ہی نہیں یا بہت کم سچ بولتا ہے۔اسی طرح بعض دفعہ کسی کو کذاب کہا جاتا ہے، تو اس کی وجہ بھی یہ ہوتی ہے کہ اس نے کوئی بڑا جھوٹ بولا ہوتا ہے۔ورنہ کوئی انسان آج تک ایسا نہیں گزرا جس کے جھوٹ اس کے سچ سے زیادہ ہوں۔حضرت آدم سے لے کر اِس وقت تک جس قدر بھی جھوٹ بولنے والے ہوئے ہیں، ان تمام کے جھوٹ کم ہیں اور بیچ زیادہ یہی حال چوری وغیرہ دوسرے عیوب کا ہے۔اگر انسان کی بدیاں اس کی نیکیوں سے بڑھ جاتی ہیں تو یقینا اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو مٹادیتا اور دنیا میں قیامت آجاتی۔قرآن مجید صاف طور پر فرماتا ہے۔اَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ ہے جو چیز فائدہ رساں ہوتی ہے اسے ہی دنیا میں قائم رکھا جاتا ہے۔اگر انسان نفع رساں نہ ہوتے اور اگر ان کی بدیاں نیکیوں سے زیادہ ہو جاتیں تو انہیں ہرگز دنیا میں نہ رکھا جاتا بلکہ تباہ کر دیا جاتا۔غرض اللہ تعالیٰ نے یقین کے اظہار کیلئے دنیا کو پیدا کیا ہے۔مگر اس خالی دعوئی میں تمام مذاہب شریک ہیں اور سب لوگ نیک نیتی سے اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہیں۔ان حالات میں کس طرح ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالٰی سچا اور جھوٹا یقین کرنے والوں میں فرق نہ کرے۔اور بتائے نہیں کہ کس کا یقین سچا ہے اور کس کا جھوٹا۔اسی کے اظہار کیلئے حقیقی اور غیر حقیقی یقین کرنے والوں میں فرق کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ایسے ابتلاؤں میں سے گزارتا ہے جن میں اس کا ایمان چمک اُٹھتا ہے۔اور دنیا پر ظاہر ہو جاتا ہے کہ ابتلاؤں کی بھٹی ان کے ایمانوں کو اور زیادہ جلا دے دیتی ہے۔جب ابتلاء آتے ہیں، مصائب کی آندھیاں اُٹھتی ہیں، حوادث کے پہاڑ کرتے ہیں، اُس وقت ایمان رکھنے والوں کے دل اللہ تعالیٰ کی محبت سے لبریز ہو جاتے اور ان کے ایمان از سرنو تازہ ہو جاتے ہیں۔مگر دوسرے شخص گھبرا جاتے ہیں، وہ پریشان ہو جاتے ہیں۔اور ان کی پریشان خاطری ظاہر کر دیتی ہے کہ حقیقی استقامت ان کے دلوں میں موجود نہیں۔پس ایمان تازہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ابتلاؤں کا سلسلہ جاری رہے۔اور جو شخص ان ابتلاؤں سے گھبراتا ہے وہ دنیا پر ظاہر کرتا ہے کہ گویا اسے حقیقی ایمان نصیب نہیں۔پس یہ پہلا گھر ہے جسے ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہیئے۔دوسرا امر جس کی طرف میں اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ کبھی اللہ تعالیٰ اپنی جماعت اور