خطبات محمود (جلد 14) — Page 47
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ جرى اللهِ فِى حُلل الانبیاء کی پیشگوئی کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ تھا۔اور اس ذریعہ سے جتنے لوگوں کو ہم اسلام میں داخل کریں گے، اتنے ہی زیادہ اس پیشگوئی کو پورا کرنے والے ہوں گے۔ابھی مجھے ساری رپورٹیں نہیں ملیں مگر جو ملی ہیں وہ بہت خوشکن ہیں۔غیر احمدیوں نے ہماری مخالفت کی اور مقابلے پر آمادہ ہو گئے۔مگر ہندوؤں نے جس محبت اور شرافت سے باتیں سنیں اور جس روح کا اظہار کیا، اس کا دسواں حصہ بھی مسلمانوں نے اس موقع پر نیز پچھلے یوم التبلیغ کے موقع پر نہیں کیا تھا۔سوائے شاز کے ہر جگہ ہندوؤں نے احمدیوں کا تپاک کے ساتھ استقبال کیا۔خوشی کے ساتھ بٹھایا اور محبت کے ساتھ باتیں سنیں۔قادیان کے ایک دوست جو تبلیغ کیلئے باہر گئے ہوئے تھے ، انہوں نے سنایا کہ انہیں ایک ہندو نے جو موٹر میں بیٹھے تھے اپنے ساتھ بٹھالیا کہ اپنی باتیں سناؤ اور ساتھ لے جاکر ان کی باتیں سنتے رہے۔پھر قادیان کے قریب آکر انہیں اُتار دیا۔امرتسر میں ہمارے ایک دوست ایک سکھ عالم کے پاس گئے تو انہوں نے نہایت تکریم کے ساتھ بٹھایا۔اور اس امر پر افسوس کیا کہ آپ تبلیغ تو ہم لوگوں کو کرتے ہیں اور ان مولویوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ آپ کی خوامخواہ مخالفت کر رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں اسلام کا سخت مخالف تھا اور رسول کریم ( ا ) کو ڈاکو سمجھتا تھا مگر مرزا صاحب کی کتب کے مطالعہ کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میں سخت غلطی تھا اور اُس دن سے میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔خدا جانے ان مولویوں کو کیا ہوگیا اور یہ لوگوں کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔میرے دل میں اگر اسلام کی عزت ہے تو محض مرزا صاحب کے طفیل ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ غیر احمدیوں میں بھی مخالفت کرنے والے بہت محدود ہیں۔اور عام تعلیم یافتہ طبقہ جیسا کہ اخبارات وغیرہ سے پتہ لگتا ہے، ان کی اس حرکت کو بُرا سمجھتا ہے اور یہ خوشکن تبدیلی ہے۔مگر ہندوؤں کی بیداری مسلمانوں سے بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔بعض جگہ مسلمانوں نے ہمارے دوستوں کو گالیاں دیں اور کہا کہ یہاں سے نکل جاؤ۔لیکن ہندوؤں نے ان کو بد زبانی سے روکا اور کہا یہ تو ہمیں تبلیغ کرتے ہیں، تم کیوں منع کرتے ہو۔پھر ان کو بٹھایا اور ان کی باتیں سنیں۔لیکن غیر احمدیوں نے بعض جگہ احمدیوں کے مکانوں اور دکانوں پر جاکر سیاپے کئے ، گالیاں دیں اور یہ نہ سوچا کہ ان باتوں سے بھلا کیا بنتا ہے۔یہ تو جھوٹے اور شکست خوردہ کی علامات ہیں۔جب کوئی شکست کھاتا ہے تو گالیوں پر اُتر آتا ہے۔لیکن جو غالب ہوتا ہے وہ گالی نہیں دیتا۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک تھپڑ پر