خطبات محمود (جلد 14) — Page 46
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ میں تیری اولاد کو بڑھاؤں گا اور ترقی دوں گا۔غرض آپ کو اللہ تعالی نے جن انبیاء کے نام دیئے ان کی روحانی تائیدیں بھی ساتھ دیں۔صرف الفاظ ہی الفاظ نہیں ہیں۔یا مثلاً جامع کمالات نبی کا نام آپ کو دیا گیا اور آپ کو ان کا شاگرد اور مظہر قرار دیا تو ان کے نشانات بھی آپ کو دیئے۔نبی کریم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن ہے کہ اس کا مثل کوئی کلام نہیں۔سو اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ وعدہ کیا کہ ہم تجھ سے ایسا کلام لکھوائیں گے کہ دنیا اس کی مثل لانے سے قاصر رہے گی۔چنانچہ آپ نے دنیا کو یہ چیلنج دیا مگر کوئی مقابلہ پر نہ آسکا۔رسول کریم اللہ کا دوسرا معجزہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو اپنے کلام کی معرفت عطا کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ایسے معارف و حقائق سکھائے کہ اس میں بھی کسی کو بھی آپ کے مقابل پر آنے کی جرات نہ ہوئی۔۔غرض اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو نام دیا اس کے ساتھ روحانی تائید بھی دی۔مگر ہر چیز کا جس طرح ایک روحانی پہلو ہوتا ہے، اسی طرح مادی بھی ہوتا ہے۔جس طرح حضرت کرشن کا روحانی محلہ یہ ہے کہ گئو صفت لوگ آپ کو دیئے گئے۔اسی طرح اس کا مادی یا جسمانی صلہ ہے کہ ان کی قوم آپ کو مان لے۔جس طرح حضرت عیسی کی دعاؤں کی قبولیت کا معجزہ روحانی حلہ ہے جو آپ کو دیا گیا۔اسی طرح ان کا جسمانی صلہ یہ ہے کہ ان کے ماننے والے آپ کی جماعت میں داخل ہو جائیں۔پھر جس طرح حضرت موسیٰ کا عصا اور ید بیضاء عطا کیا جو حضرت موسیٰ کا روحانی گلہ ہے ان کا جسمانی محلہ یہ ہے کہ یہودی آپ پر ایمان لائیں۔جس طرح زرتشت نبی کی تعلیم کی وسعت آپ کو دی گئی جو روحانی محلہ ہے اس طرح اس کا جسمانی پہلو یہ ہے کہ ان کو ماننے والے آپ کی جماعت میں شامل ہو جائیں۔اور ایک شخص کا کسی کا وارث ہو جانا اسی مقام پر اسے کھڑا کر دیتا ہے۔جب ایک بادشاہ فوت ہو اور دوسرا اس کی مملکت کا حکمران مقرر ہو تو وہی نام وہ اختیار کرلیتا ہے۔جو اللہ تعالیٰ کا کام تھا وہ اس نے کردیا یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو حضرت موسیٰ حضرت عیسی ، حضرت کرشن اور دیگر انبیاء کے نام اور ان کے کمالات عطا کر دیئے اور ظلی طور پر آپ کو محمد ﷺ کا نام اور آپ کے کمالات بھی دیئے۔اب دوسرے حصہ کو پورا کرنا ہمارا کام ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر امت کے لوگوں کو لاکر آپ کی جماعت میں داخل کریں۔ہمارا یہ یوم التبلیغ کیا تھا وہ