خطبات محمود (جلد 14) — Page 37
خطبات محمود ۳۷ سال ۱۹۳۳ء یہی سزا ہے جو نیکی اور تقویٰ پیدا کرتی ہے۔اگر ہم کسی کو مار دیتے ہیں تو اسے ہمیشہ کیلئے نیکی سے محروم کر دیتے ہیں اور اگر کسی کو گالی دیتے ہیں تو بھی اس کے دل میں بغض پیدا کر کے سے نیکی سے محروم کرتے ہیں۔صحیح اور مفید طریق یہ ہے کہ ظالم کی بجائے ہم مظلوم بنیں۔اور اگر دشمن غصے اور کینہ کا اظہار کرے تو ہم نرمی، محبت اور ملائمت میں ترقی کرتے جائیں۔اگر وہ دنیا کی اصلاح سے نہیں روکے تو ہم اور زیادہ اس اصلاح پر کمربستہ ہو جائیں۔اس زمانہ میں بھی میں دیکھتا ہوں کہ پھر احمدیت کے خلاف جوش پیدا ہو رہا ہے۔اس کے مقابلہ میں میں دیکھتا ہوں کہ بعض احمدیوں کے دلوں میں بھی ویسا ہی جوش ہے جیسے حضرت حمزہ کے دل میں تھا کہ انہوں نے کہا۔آنے تو دو اگر اس نے کوئی خلاف حرکت کی تو اس کا سر توڑ دوں گا۔یہ حضرت حمزہ کے الفاظ تھے۔مگر رسول کریم ﷺ نے یہ نہیں کہا کہ میں سرتوڑ دوں گا۔بلکہ آپ نے کہا عمر! تم کب تک ہمارے پیچھے پڑے رہو گے۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! میں تو تو بہ کرنے آیا ہوں ہے۔رسول کریم ﷺ کے کیا درد کے الفاظ ہیں اور کس طرح محبت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔گویا ایک طرف تو رسول کریم انہیں یہ بتارہے ہیں کہ تم ہمیشہ ظلم کرتے ہو اور پھر یہ بھی اظہار فرمارہے ہیں کہ ہم کبھی اس ظلم کا جواب نہیں دیتے۔اور تیسری طرف یہ پوچھ رہے ہیں کہ عمر! تم نیکی کا کب تک انکار کرو گے۔یہی چیز ہے ہے جس سے آج بھی ہم کامیاب ہو سکتے ہیں۔خدا نے ہمیں تلوار نہیں دی بلکہ آج ہمیں اس نے بے بس بنایا ہے اور اس لئے بنایا تا وہ ہمارے صبر کی آزمائش کرے۔پس میں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس عظیم الشان جہاد کے موقع پر گھبرائے نہیں۔بلکہ یاد رکھے کہ ہمارا پیدا کرنے والا آقا اور رب جو پہلوں اور پچھلوں تمام کو پیدا کرنے والا ہے چاہتا ہے کہ ہمارے حوصلہ اور صبر کی آزمائش کرے۔وہ چاہتا ہے کہ دیکھے جماعت غیرت سے صحیح طور پر کام لیتی ہے یا نہیں۔اور غیرت کو صحیح طور پر استعمال کرنے کا یہی مفہوم ہے کہ اگر پہلے یہ نیت تھی کہ دس آدمیوں کو احمدی بنائیں گے۔تو جب مخالف مارتا ہے تم کہو اب ہم میں یا تمہیں یا چالیس یا پچاس آدمیوں کو احمدی بنا کر رہیں گے۔یہ ہے بدلہ اور یہ ہے وہ تلوار جو خدا نے ہمارے ہاتھ میں دی ہے۔دوسری تلوار خدا نے ہمیں نہیں دی۔اور اس کا منشاء ہے کہ وہ بغیر تلوار کے ہمیں دنیا پر غالب کرے۔پس جو شخص اس منشاء کو پورا نہیں کرتا وہ اپنی ہلاکت کی آپ بنیاد رکھتا ہے آنکھ کا کام