خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 33

خطبات محمود سمسم سال ۱۹۳۳ء نہیں کر سکتا۔مگر سوار اسے ہنٹر پر ہنٹر مارتا چلا جاتا ہے۔ان گالیوں کے ساتھ طعن بھی ہوتا ہے، جھوٹ بھی ہوتا ہے، فریب بھی ہوتا ہے، اشارے بھی ہوتے ہیں، بغض بھی ہوتا ہے، کینہ بھی ہوتا ہے، حسد بھی ہوتا ہے۔غرض دنیا کی تمام شرارتیں ان میں ملادی جاتی ہیں۔اور گو بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وہ الفاظ ہیں مگر وہ بغض اور کینہ کے پتھر ہوتے ہیں جو اپنے مقابل کو دینا چاہتے ہیں۔قدرتی طور پر یہ گالیاں بعض لحاظ سے بہت تلخ ہوتی ہیں۔اس لئے کہ جب ایک شخص کسی کے آقا پر تلوار کا وار کر رہا ہو تو قربانی کرنے والا اپنا سینہ آگے کردیتا ہے۔اور کہتا ہے کہ آؤ تم مجھے مارلو - وہ خود زخم برداشت کرتا ہے مگر اپنے آقا کو تلوار نہیں لگنے دیتا۔لیکن یہ گالی کی تلوار وہ ہے جسے کوئی شخص خواہ کس قدر جانثار کیوں نہ ہو، روک سکتا۔یہ اسی پر پڑتی ہے جس پر چلائی جاتی ہے۔جب ابو جہل، عتبہ اور شیبہ نے محمدی نہیں۔み رقم رض تلواریں اُٹھا ئیں تو طلحہ اور زبیر آگے آگئے اور انہوں نے اپنے سینوں اور ہاتھوں پر ان تلواروں کو لے لیا۔علی اور حمزہ آگے آگئے اور انہوں نے اپنے سینوں اور ہاتھوں پر ان تلواروں کو لے لیا۔اسی طرح انصار میں سے لوگ نکلے اور انہوں نے تلواروں کو اپنے سینوں اور ہاتھوں پر لیا۔لیکن میں جانتا ہوں کہ اس زمانہ کی تلواریں یعنی گالیوں کی بوچھاڑ وہ چیز ہیں جنہیں کوئی مخلص اپنے نفس پر نہیں لے سکتا۔وہ حیران ہوتے ہیں کہ ان گالیوں کی تلوار کو طرح اپنے سینوں پر لیں۔کیونکہ گالی ایسی چیز ہے جسے کوئی دوسرا شخص نہیں لے سکتا۔اخلاص رکھنے والے گولیاں اپنے سینوں میں کھاسکتے ہیں، بندوقوں اور توپوں کے راستہ میں حائل ہو سکتے ہیں مگر گالی کو نہیں روک سکتے۔پس اس لئے ان کی وجہ سے جوش تلوار چلانے سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔پچھلے سے پچھلے سال جب میں سیالکوٹ گیا اور کشمیر کی تحریک کے متعلق میرا لیکچر ہوا تو دشمنوں کی طرف سے مجھ پر پتھر برسائے گئے۔اُس وقت جماعت کے مخلصین نے میرے چاروں طرف گھیرا ڈال لیا۔اور گو اُچٹ کر تین چار پتھر مجھے بھی آلگے مگر وہ نہایت معمولی تھے زیادہ زخم گھیرا ڈالنے والوں کو آئے اور پچیس کے قریب احمدی شدید زخمی ہوئے۔لیکن باوجود اس کے انہیں غصہ نہ رہا تھا۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہم جس کو بچانا چاہتے تھے، اسے بچالیا۔لیکن جب کوئی گالیاں دیتا ہے اور حملہ کو انسان اپنے اوپر نہیں لے سکتا تو اس کا جوش بڑھتا جاتا ہے۔کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ جسے میں بچانا چاہتا ہوں، اسے نہیں بچاسکتا۔غرض گالی وہ رتیر