خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 316

خطبات محمود ۳۱۶ سال ۱۹۳۳ء ہے جب کسی جگہ مکانات بن جاتے ہیں تو اس کا نقشہ بدل جاتا ہے۔اسی طرح آسمان اور زمین بھی بدل کر نئے معلوم ہونے لگتے ہیں۔بہت سے الہامات کو پورا کرنا نبی کی جماعت کے ذمہ ہوتا ہے۔نبی جماعت کیلئے مصالحہ فراہم کرکے خود چلا جاتا ہے۔اس مصالحہ سے کام لیتا جماعت کا فرض ہوتا ہے۔اگر یہ رؤیا یوں ہوتا کہ ہم جماعت کو نیک اور صالح بنادیں گے تو دل پر کبھی اتنا اثر نہ ہوتا۔لیکن نیا آسمان اور نئی زمین بنانے کے الفاظ دل کو ہلا دیتے ہیں۔ان میں ایک آئیڈیل (IDEAL) قائم کر دیا گیا ہے۔جس پر چلنا ہماری جماعت کا فرض ہے۔رسول کریم کے زمانہ اور موجودہ وقت کو دیکھئے ظاہری اقرار کے لحاظ سے ہی دونوں زمانوں میں بڑا فرق نظر آتا ہے۔رسول کریم ﷺ نے جب توحید کی تعلیم پیش کی تو کفار اسے بیوقوفی کی بات خیال کرتے تھے۔چنانچہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ کفار مکہ کہتے تھے اس نے تو بہت سے معبودوں کو کوٹ کر ایک بنادیا ہے گویا سب کو قیمہ کر کے ایک بت بنادیا تھا۔وہ قومیں جو اس وقت نہایت مضحکہ خیز اور مجنونانہ حرکتیں کرتی تھیں، آج ظاہرہ طور پر اب ان سے انکاری ہیں۔ہندو کہتے ہیں ہم بت پرست نہیں۔بت کو سامنے رکھ کر خدا کا تصور کرتے ہیں۔عیسائی کہتے ہیں خدا کا ظہور بیٹے اور روح القدس کی صورت میں ہوا در حقیقت خدا ایک ہی ہے۔یہی نہیں بلکہ کہتے ہیں کہ صحیح وحدانیت عیسائیت میں ہی ہے۔کبھی وہ وقت تھا کہ اقوامِ عالم کے نزدیک توحید ایک ناقابل تسلیم مسئلہ تھا۔لیکن آج اسے اتنا فروغ حاصل ہو چکا ہے کہ اسے معمولی بات سمجھا جاتا ہے۔اور ہر قوم مدعی ہے کہ ہم نے ہی دراصل توحید کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔پھر تمدن میں اس ظاہری اقرار کو دیکھئے حضور سرور کائنات سے عورتوں کو کہیں مساوی حقوق حاصل نہیں تھے۔اور اگر عورت کو کچھ حقوق حاصل تھے بھی تو وہ نہایت مضحکہ خیز تھے جیسے مرد و عورت کی پوجا۔وہ مذاہب جن میں یہ باتیں ابھی رائج ہیں وہ اپنے عقائد کو چھپاتے ہیں۔دوسری قومیں جنہوں نے عورتوں کے حقوق رسول کریم سے سیکھے وہ کہہ رہی ہیں کہ یہ تو ہمارے عقائد میں داخل تھے۔میں نے عیسائی کتابوں میں پڑھا ہے کہ اسلام میں عورت کی روح تسلیم نہیں کی گئی۔صرف انجیل ہی ایسی کتاب ہے جس میں عورت کی روح کو تسلیم کیا گیا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں خود مسیح ناصری کی والدہ حضرت مریم کی عزت قائم کی گئی ہے۔ظاہری اقرار کے اعتبار سے عورتوں کا آج اور پہلے کا نقشہ دیکھ لو۔پہلے مرد عورت کو ستاتا تھا، مارتا تھا، پیٹتا تھا اور سمجھتا تھا کہ اس پہلے