خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 25

خطبات محمود ۲۵ اعمال کے ساتھ نیت کی درستی بھی ضروری ہے فرموده ۲۴ - فروری ۱۹۳۳ء بمقام راجپورہ) سال ۱۹۳۳ء تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- ہے اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ ہر ایک ترقی کے ساتھ کچھ نہ کچھ قربانی ضرور رکھتا زمیندار اُس وقت تک غلہ حاصل نہیں کر سکتا جب تک دانے اپنے گھر سے نکال کر باہر کھیت میں نہیں پھینک دیتا۔اسی طرح علم حاصل کرنے کیلئے بھی انسان اپنی قوتوں کو خرچ کرتا ہے حقیقت تو ہے کہ اپنے بہت سے علم کو بھی ضائع کرتا ہے۔کیونکہ جن چیزوں کو وہ پہلے تسلیم کر رہا ہوتا ہے جب تک انہیں قربان نہیں کرتا علم حاصل نہیں کر سکتا۔معمولی سے معمولی بھی انسان کو بڑی بڑی قیمتیں ادا کرنی پڑتی ہیں، سوائے ایسی نعمتوں کے جن کے بغیر انسان کی زندگی ناممکن ہے۔انہیں خدا تعالیٰ نے مستثنیٰ رکھا ہے جیسے ہوا ہے، اس کیلئے کوئی قربانی نہیں کرنی پڑتی۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ایسی قوتیں رکھی ہیں کہ ہوا خود بخود ہی سانس کے ساتھ اس کے اندر جاتی رہتی ہے۔اس سے اتر کر پانی ہے جو بہت سستی چیز ہے۔مگر اس کیلئے بھی کہیں کنویں کھودنے پڑتے ہیں اور کہیں سفر کر کے دوسری جگہ سے لانا پڑتا ہے۔تو سب ترقیات قربانی چاہتی ہیں لیکن دُنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ترقی تو چاہتے ہیں مگر قربانی نہیں کرتے۔وہ چاہتے ہیں کہ انہیں عزت، مال، دولت وغیرہ سب کچھ مل جائے مگر اس کے مقابلہ میں کسی قسم کی قربانی نہ کرنی پڑے۔ایسے ہی لوگ ترقیات سے محروم رہتے ہیں۔ان کے دل مسرت سے پُر ہوتے ہیں کہ کاش یہ ملے وہ ملے مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکتے