خطبات محمود (جلد 14) — Page 289
خطبات محمود ٢٨٩ سال ۱۹۳۳ء شہادت کا ذکر کر کے لوگ ایک دوسرے کے دل میں محبت قائم رکھتے۔پھر ان میں حال کھیلنے والے آگئے۔اور جب ان کی وجہ سے لوگوں نے رونا شروع کیا۔تو واعظوں میں سے کمزور طبقہ نے خیال کیا کہ اس طرح تو بڑی شہرت ہوتی ہے، لوگوں کو خوب رلانا چاہیے۔تب انہوں نے باتوں میں مبالغہ شروع کر دیا تاکہ جو پہلے نہیں روتے وہ بھی روپڑیں۔پھر مبالغہ آمیز باتیں سن کر بھی جو لوگ نہیں روتے تھے۔انہوں نے طعن و تشنیع اور لوگوں کے ڈر سے جھوٹا رونا شروع کر دیا۔حتی کہ ترقی کرتے کرتے واعظوں نے لوگوں کو رلانے اور لوگوں نے رونے کی مشقیں شروع کردیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اصل حقیقت جاتی رہی۔اور کچھ کا کچھ لوگوں میں باقی رہ گیا۔ہندوستان میں ایک ریاست ہے۔اس میں کچھ عرصہ پہلے واقعات کربلا ایک نئے رنگ میں دکھائے جاتے تھے۔باقاعدہ ایکٹ کیا جاتا اور تمام واقعات کو عملی صورت میں دکھایا جاتا۔چنانچہ ہر سال محرم کے دنوں میں وہاں کے نواب صاحب اپنے دربانوں اور حاشیہ نشینوں کو ساتھ لے کر گھوڑوں پر سوار ہو جاتے۔اور سڑک پر کسی ایسے قیدی کو کھڑا کرنے کا حکم دے دیتے جسے موت کا حکم مل چکا ہوتا اور اس قیدی کو سکھایا جاتا کہ جب نواب صاحب تجھ سے چھیں کہ تو کون ہے تو تو کہنا میں شمر ہوں یا یزید ہوں۔نواب صاحب اپنے ساتھیوں سمیت گھوڑے دوڑاتے ہوئے آتے اور اس سے پوچھتے تو کون ہے۔جب وہ کہتا میں شمر ہوں یا یزید ہوں۔تو اسے ماردیا جاتا۔گویا سمجھا جاتا کہ اس رنگ میں انہوں نے حضرت امام حسین کا بدلہ لے لیا ہے۔چالیس پچاس سال کا عرصہ ہوا کوئی قیدی تھا جسے موت کا حکم مل چکا تھا۔اسے بھی سکھایا گیا کہ جب نواب صاحب تیرے پاس پہنچیں اور پوچھیں کہ تو کون ہے۔تو تو کہنا کہ میں شمر ہوں اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ تجھے چھوڑ دیں گے۔لیکن اس کے رشتہ داروں کو کسی طرح نواب صاحب کی اس حرکت کا علم تھا۔انہوں نے اسے کہا کہ لوگوں کے دھوکا میں نہ آنا۔اس طرح نواب صاحب ماردیا کرتے ہیں۔اسے ایک سڑک کے کنارے کھڑا کردیا گیا۔اور جب نواب صاحب اپنے ہمراہیوں سمیت گھوڑے دوڑاتے ہوئے آئے۔اور اس سے پوچھا کہ تو کون ہے۔تو وہ کہنے لگا میں امام حسن ہوں۔اس پر وہ گالیاں دیتے ہوئے واپس لوٹ گئے۔اور ملازموں نے پھر اسے کئی قسم کے لالچ دینے شروع کئے۔مگر اب چونکہ وہ اپنی آنکھ سے بھی نواب صاحب کا حال دیکھ چکا تھا۔اس لئے وہ اور زیادہ پختہ ہو گیا۔لوگوں نے سمجھا کہ اب یہ