خطبات محمود (جلد 14) — Page 288
خطبات محمود ۲۸۸ I سال ۱۹۳۳ء سیرت النبی کے جلسوں کے متعلق اہم ہدایات (فرموده ۲۴ - نومبر ۱۹۳۳ء) تعوز اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- پرسوں انشاء اللہ تعالیٰ رسول کریم اے کے حالات سے دنیا کو آگاہ کرنے اور اپنے نوجوانوں کو ان کے احسانات سے واقف کرنے کا دن آنے والا ہے۔اچھی سے اچھی چیز بُرے ہاتھوں میں پڑ کر خراب ہو جاتی ہے۔اور بُڑی سے بُری چیز اچھے ہاتھوں میں اگر کچھ نہ کچھ اپنی شکل بدل لیتی ہے۔بلکہ کئی ایسی چیزیں جنہیں لوگ بُرا سمجھتے ہیں، وہ اچھے ہاتھوں میں آکر نیکیاں اور خیر بن جاتی ہیں۔اس دن کے متعلق بھی ہمارے دوستوں کو خوب اچھی طرح یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام کسی تصنع اور کسی ایسے ذریعہ کو جو اپنی ذات میں ناجائز و ناپسندیدہ ہو اچھے کام کیلئے جائز و پسندیدہ نہیں سمجھتا۔ایسے ہی جذبات کے اظہار کے مواقع ہوتے ہیں جبکہ وں کے قدم لڑکھڑا جایا کرتے ہیں۔اللہ تعالی نے انسان کو ایسا پیدا کیا ہے کہ وہ ہر وقت ہی صراط پر کھڑا ہے۔ذرا سی لغزش اس کو اور اس کی قوم کو کہیں سے کہیں پہنچادیتی ہے۔شیعوں کے تعزیوں کو دیکھتے ہو، ان کی کہاں سے کہاں نوبت پہنچ گئی۔غم کے اظہار کی بعض کیفیات بعض نے ظاہر کی ہوں گی۔بعد میں آنے والوں نے ان پر مبالغہ کی کوشش کی۔پھر لوگوں میں سے بعض کمزور ہوتے ہیں۔انہیں لیڈری کی خواہش ہوتی ہے۔اور وہ چاہتے ہیں کہ پہلوں سے زیادہ کام کر کے دکھائیں۔اور جب جائز حد بندی ختم ہو جائے تو چونکہ ناجائز کا ہی دروازہ کھلتا ہے۔اس لئے ان میں ایسی باتیں پیدا ہو گئیں۔ابتداء میں محض امام حسین کی جسره