خطبات محمود (جلد 14) — Page 285
سال ۱۹۳۳ تو خطبات محمود ۲۸۵ کہنے لگ جائیں گے کہ واقعی اس پر بڑا ظلم ہوا۔حالانکہ مومن کو چاہیے کہ اپنے بھائی کے متعلق حسن ظنی سے کام لے۔میں یہ نہیں کہتا کہ بات سنانے والے پر ضرور بدظنی کرو۔لیکن وہ جو بدظنی پیدا کرتا ہے اس کی بات کو بھی بغیر تحقیقات کے نہ مان لو۔حسن ظنی نیکی اور احسان پہلے گھر سے شروع ہونا چاہیے۔بدظنی سے اسلام نے روکا ہے۔لیکن جب دو میں سے کسی ایک پر کرنی پڑے تو جسے اللہ تعالیٰ نے ایمان کی توفیق عطا فرمائی ہے، اس میں کوئی نہ کوئی خوبی زیادہ ماننی پڑے گی۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہی غلطی پر ہو لیکن پہلے تو اس پر حسن ظنی ونی چاہیئے۔ہاں جب معلوم ہو جائے کہ وہ واقعی زیادتی کر رہا ہے تو پھر اس کو روکنا چاہیئے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اپنے بھائی کی خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم مدد کرونا۔اور صحابہ کے دریافت کرنے پر بتایا کہ ظالم کو ظلم سے روکنا اس کی مدد کرنا ہے۔لیکن جب تحقیق بنی سے اپنے بھائی کا غلطی پر ہونا معلوم نہ ہو جائے، اس وقت تک خیال کی بنیاد لازماً حسن ہونی چاہیئے۔اور اگر دوست اس اصل پر عمل شروع کردیں تو بہت سے فتنے مٹ جائیں۔میں نے دیکھا ہے کہ یہاں ایک شخص عبداللہ چرخی تھا۔اس کے پاس اگر کوئی بیٹھتا تو ہمارے بعض دوست گھبراتے کہ کہیں کوئی اثر قبول نہ کرلے۔حالانکہ اگر کسی پر ایسی باتوں کا اثر ہوتا ہے تو یہ ہماری کمزوری اور ہماری تربیت کا نقص ہے کہ اس کے اندر صدیقیت کا مادہ نہیں پیدا کر سکے۔انسان کے اندر جب ایمان کی طاقت ہو تو وہ کسی مخالف کے اثر کو قبول کر سکتا ہی نہیں۔کئی اعتراضات ایسے ہوتے ہیں جو ہم نے کبھی سئے نہیں۔مگر جب وہ ہم پر کئے جاتے ہیں تو جواب اللہ تعالیٰ فوراً سمجھا دیتا ہے۔کبھی کسی بڑے سے بڑے لائق اور فاضل انسان کی طرف سے اسلام پر کوئی ایسا اعتراض نہیں کیا گیا جسے سن کر ہم یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہوں کہ اچھا اس پر غور کریں گے فوراً اس کا جواب سوجھ جاتا ہے۔تو ایمان کی کھڑکیاں جب کھلی ہوئی ہوں تو کوئی مخالف طاقت اپنا اثر کر نہیں سکتی۔مومن کا فرض ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالٰی نے بزرگی دی اور ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی ان کی بات کی طرف زیادہ توجہ دے۔اور اگر ایسا کیا جائے تو سب فتنے مٹ جائیں۔فتنے دراصل پیدا ہی اس طرح ہوتے ہیں کہ منافقوں کی باتوں پر ایمان لایا جاتا ہے۔ہم یہ تو مان سکتے ہیں کہ کسی کو کوئی ایسا معاملہ پیش آیا جو سچا تھا۔اور اس سے اسے ابتلاء آگیا۔لیکن یہ کہ جو شخص صبح کو بدظن ہوا، شام کو اس کا مقصد اصلاح ہو گیا یہ خیال کرنا بیوقوفی ہوگی۔ہر کفر کی ہوا سے دب جانا اور ایمان کی ہوا سے کھڑا ہو جانا کوئی