خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 24

خطبات محمود سوم ۴ ۶۱۹۳۳ کرتا ہوں کہ تُو اِس وقت میرے باپ کی سزا بھی مجھ پر ڈال دے اور مجھے زیادہ لمبے عرصہ کیلئے دوزخ میں پھینک دے، تاکہ میں اپنے باپ کو تکلیف میں نہ دیکھ سکوں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔دیکھو میرے بندے کے دل میں محبت کا بیج موجود ہے، جاؤ میں نے تم دونوں کو معاف کیا اس طرح وہ دوزخی جنتی بن گیا۔مگر اس لئے کہ اس کے دل میں اطاعت کا پیج موجود تھا جو آخری وقت میں پھوٹ پڑا۔حالانکہ وہ ایسا وقت ہوتا ہے کہ قرآن مجید میں آتا ہے۔اُس وقت رشتہ دار ایک دوسرے پر اپنی سزا ڈالنے کی کوشش کریں گے اور چاہیں گے کہ کسی طرح ان کا چھٹکارا ہو جائے ہے۔ایسے موقع پر وہ جس نے ساری عمر نافرمانی میں گزار دی، اپنے باپ کی سزا بھگتنے کیلئے تیار ہو گیا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بدی خواہ کتنی بڑھ جائے نیکی کے بیج کو نہیں مٹاسکتی۔ایسے آدمی میرے نزدیک ہوں گے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یقینا ہوں گے جن کو قیامت کے دن دوزخ میں ڈالنے کا حکم ہوگا تو کہہ دیں گے کہ ہم بیشک سزا کو برداشت کریں گے اور زگنے یا تنگئے عرصہ کیلئے جہنم میں پڑنا بھی گوارا کرلیں گے مگر اے خدا! تیری ناراضگی ہم برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ سزا اصل چیز نہیں اصل چیز خفگی اور ہے جو محبت کے تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔وہ شخص جو سزا کو اصل چیز قرار دیتا ہے، وہ ناراضگی گویا محبت کا انکار کرتا ہے۔لہ بخاری کتاب المغازی باب غزوة الطائف الفضل ۲۶ - فروری ۱۹۳۳ء) له بخارى كتاب التفسير - تفسير سورة السجدة زير آيت فلا تعلم نفس ما اخفـى لـهــم من قرة أعين بخاری کتاب المناقب باب مناقب قريش ه بخاری کتاب المغازى باب قتل حمزة ه المعارج: ۱۲ تا ۱۴