خطبات محمود (جلد 14) — Page 245
خطبات محمود ۲۴۵ سال ۱۹۳۳ ہے ہیں۔اسی طرح اس دن یہ بھی پتہ لگ جاتا ہے کہ منافق کون ہے اور سُست کون۔کیونکہ منافق اور ست آدمی میں بظاہر فرق نہیں ہوتا۔رسول کریم ﷺ نے منافق کی نشانی یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ عشاء اور صبح کی نماز میں نہیں آتا ہے۔ست آدمی بھی ان نمازوں میں نہیں آتا۔اور بظاہر یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ عشاء اور صبح کی نمازوں میں نہ آنے والوں میں سے ست کون ہے اور منافق کون تبلیغ کا دن اس امتیاز کو بھی ظاہر کردیتا ہے۔ست آدمی کے سامنے تبلیغ کرنے کا سوال آئے گا تو وہ بہانے بنائے گا۔کہے گا تبلیغ ہر روز ہی ہونی چاہیئے، صرف ایک دن تبلیغ کیلئے مخصوص کر لینے کی کیا ضرورت ہے۔وہ اس قسم کی باتیں کرے گا کہ خیال آئے گا وہ ہر روز ہی تبلیغ کرتا رہتا ہے۔حالانکہ وہ اس دن کی تبلیغ سے بچنے کیلئے اس قسم کی باتیں کر رہا ہوگا اور خود بھی یہی سمجھے گا۔مگر کہے گا دوسروں سے یہی کہ ایک خاص دن مقرر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس طرح فساد بڑھے گا۔جھگڑے ہوں گے۔اور لڑائی ہو جانے کا بھی امکان ہے۔مگر جب اس پر زیادہ زور دیا جائے گا تو وہ اٹھ کھڑا ہو گا۔کہے گا اچھا حکم جو ہوا تبلیغ کیلئے چل پڑتے ہیں۔گو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ایک دن کو تبلیغ کیلئے کیوں مخصوص کر لیا گیا ہے۔اس طرح لوگوں کے کہنے سے اٹھتا اور تبلیغ کیلئے نکل کھڑا ہوتا ہے۔اس کے مقابلہ میں منافق آدمی صرف اعتراض کرے گا اور تبلیغ کیلئے نکلے گا نہیں کیونکہ تبلیغ کیلئے نکلنا اس کیلئے موت ہے۔اگر ظاہر میں لوگوں کو دکھانے کیلئے تبلیغ کیلئے نکل بھی پڑے گا تو دیکھنے والے دیکھیں گے کہ وہ لوگوں میں تبلیغ نہیں کر رہا ہوگا۔بلکہ کہیں تو وہ لہو و لعب میں مشغول ہوگا۔کہیں اس شکایت میں مصروف ہوگا کہ یہ اسلام کیلئے اتحاد کے دن تھے مگر انہوں نے خوامخواہ فتنہ ڈال دیا۔اور دوسروں کو اپنے اندر شامل کرنے کی کوشش شروع کر دی۔وہ نام کا تو احمدی ہو گا مگر اس کے اعمال ظاہر کر دیں گے کہ وہ احمدی نہیں بلکہ منافق ہے۔تو کم از اس دن کا یہ بھی فائدہ ہے کہ اس طرح سُست اور منافق آدمی کا پتہ چل جاتا ہے۔پھر تمام لوگوں کی مجموعی طاقت میں بھی ایک برکت ہو جاتی ہے۔جیسے عمرہ ہمیشہ ہی ہو سکتا ہے۔مگر حج کیلئے خدا تعالیٰ نے ایک دن مقرر کر دیا۔جس میں ہر صاحب استطاعت شخص مکہ میں جاتا ہے۔اس امر کی پرواہ نہیں کی گئی کہ جب سب لوگ اکٹھے ہو کر جائیں گے تو غیروں کو انگیخت ہوگی اور دشمن کہے گا کہ یہ کیا ہونے والا ہے۔پس باوجود اس کے کہ یہ اعتراض حج پر بھی ہو سکتا ہے اور باوجود اس کے کہ