خطبات محمود (جلد 14) — Page 221
خطبات ت محمود ۲۲۱ سال ۱۹۲۳۳ء شدت سے وبائیں پڑتی ہیں کہ گھروں کے گھر ویران ہو جاتے ہیں۔ایسی حالت میں لوگوں نے ان کے ساتھ جو صفائی پر مقرر تھے ، تعاون نہیں کیا۔مستقل نظام کی غرض یہ ہوتی ہے کہ جب ایک عام مشکل کا وقت آجائے تو اس وقت وہ نظام کام آئے۔ورنہ اپنی اپنی صلیب تو ہر شخص کو اٹھانی ہی پڑتی ہے۔نظام کے قائم کرنے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ بغیر دیر لگنے کے کام شروع ہو جائے۔گویا قوم تیار رہتی ہے کہ کوئی مصیبت آئے، وہ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے آمادہ ہے۔مگر معلوم ہوتا ہے لمبا امن بھی انسان کو غافل کر دیتا ہے۔جنگ سے پہلے انگریزوں کا نظام بہت مشہور تھا۔مگر جنگ کے ایام میں بڑے بڑے لوگوں نے تسلیم کیا کہ انگریزی جرنیلوں میں سے کوئی بھی خاص شان کا ثابت نہیں ہوا۔یہاں تک کہ ایک بہت بڑے ہوشیار جرنیل نے جو جنگ کے دنوں میں نہایت اعلیٰ عہدے پر رہا مجھ سے ذکر کیا کہ کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جس کی قوم میں خاص عزت ہوتی۔اور ہم محسوس کرتے تھے کہ ہماری فوج کو عام نظام کے لحاظ سے کام دے رہی ہے۔مگر اس کی ایسی پوزیشن نہیں کہ اس میں سے کوئی شخص سب پر بالا ثابت ہو سکے۔یہ نتیجہ تھا اس اطمینان کا جو انگریزی قوم میں پیدا ہو چکا تھا۔جب تک وہ خطرات میں گھرے رہے، اُس وقت تک ان میں ولنگٹن (WELLINGTON)، نیپیئر (NAPIER) اور کلائیو (CLIVE)، جیسے لوگ پیدا ہوتے مگر جب اطمینان کا لمبا دور آیا اور لوگ آسائش کی طرف مائل ہوگئے تو انسانی فطرت جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ مادہ رکھا ہے کہ وہ زور لگانے سے ترقی کر سکتی ہے، کمزور ہو گئی۔اور اس طرح قوم کی ترقی رُک گئی۔اس وقت تقریباً ہر جرنیل کے متعلق کہتا ہیں لکھی جارہی ہیں۔رہے۔اور ثابت کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی خاص شان کا ثابت نہیں ہوا۔لائڈ جارج (LLOYED GEORGE) نے لارڈ کے چند کے خلاف ایسے مضامین لکھے ہیں کہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ لارڈ کے چند جیسا جنگ سے ناواقف شخص ہی کوئی نہیں تھا۔لکھتے ہیں کہ ان میں دنوں میں جبکہ انگلستان کیلئے زندگی اور موت کا سوال در پیش تھا بران جنگ سے آئے ہوئے تاروں کو لارڈ کے چند جو وزیر جنگ تھے۔پڑھتے ہی نہ تھے۔حتی کہ جب عام لوگوں میں خبر مشہور ہو جاتی تو انہیں بھی معلوم ہوتا۔اور بعد میں پتہ لگتا کہ دفتر میں دیر سے ایسے تار پہنچ چکے ہیں۔اب نہ معلوم ان میں مبالغہ ہے، زیادتی ہے یا کیا ہے۔بہر حال یہ کہنا پڑتا ہے کہ لمبے امن کی وجہ سے ان کے کام میں نقائص پیدا ہوئے۔اسی طرح