خطبات محمود (جلد 14) — Page 16
خطبات محمود 14 سال ۱۹۳۳ء آتے ہیں۔باوجود اس کے ہم اللہ تعالیٰ کے رحم پر حرف گیری نہیں کرتے۔اللہ تعالی کی جس صفت کے ماتحت ان افعال کا ظہور ہوتا ہے، وہ بتاتی ہے کہ رحم اور عفو کا یہ مفہوم نہیں کہ شخص کوئی فعل کرے اور پھر کہہ دے میری توبہ تو وہ اس کے اثرات و نتائج سے محفوظ ہو جائے۔اگر عفو اور رحم اور توبہ کا یہی مفہوم ہوتا تو نہ دنیا میں بیماریاں ہوتیں نہ موتیں تیں، نہ دوسری تکالیف پیش آتیں ، نہ خدا کی گرفت کسی اور صورت میں ظاہر ہوتی اور نہ اگلے جہان کے عذاب باقی رہتے۔کون کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالی کی مثال اس راجہ کی سی ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ "اندھیری نگری چوپٹ راجہ"۔بلکہ اس کی طرف سے پیدائش فتا گرفت اور عقوبت ایک قانون کے ماتحت جاری ہے۔اس کی طرف سے ہلاکت بھی ایک قانون کے ماتحت جاری ہے اور اس کی طرف سے رحم بھی ایک قانون کے ماتحت جاری اور ہے۔جو دیکھو رسول کریم ال کے وقت ایک نوجوان انصاری کے منہ سے ایک بات نکلی رسول کریم ال تک پہنچ گئی۔باقی سب انصار نے اس سے بیزاری کا اظہار کیا، بڑوں اور چھوٹوں نے امراء اور غرباء نے غرض تمام کی تمام جماعت نے اس کے خیال سے نفرت کا اظہار کیا۔اس کو رد کیا اسے باطل قرار دیا اور اس بات کا اعلان کیا کہ ہم نہ کبھی اس خیال کو صحیح سمجھتے تھے نہ اب سمجھتے ہیں اور نہ آئندہ سمجھیں گے۔مگر باوجود اس کے کہ وہ قوم کا خیال نہ تھا، باوجود اس کے کہ وہ کسی ذمہ دار فرد کا قول نہ تھا اور باوجود اس کے کہ وہ صرف ایک فرد کا قول تھا۔اور پھر باوجود اس کے کہ تمام لوگ اس قول پر نادم بھی ہوئے، پھر بھی رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے انصار! اپنا صلہ اب تم مجھ سے حوض کوثر پر ہی مانگنا کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ محمد اس سے زیادہ رحم کر نیوالا کوئی شخص پیدا ہوا یا ہو۔آئندہ پیدا ہو گا۔یا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحم اُس وقت معطل ہو گئی تھی۔نہیں بلکہ یہ سب چیزیں بعض قوانین کے ماتحت ہوتی ہیں۔ایسے باریک قوانین جن کو بہت انسان نہیں سمجھ سکتے۔اصل بات یہ ہے کہ اکثر لوگوں کو بعض باتوں پر غور کرنے کا موقع نہیں ملتا۔انہیں میں سے ایک اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔اللہ تعالیٰ کی صفات اتنی انواع کی ہیں کہ انہیں اپنے طور پر سمجھنے والا کبھی نامکمل علم بھی حاصل نہیں کر سکتا۔چہ جائیکہ اسے مکمل ! علم حاصل ہو سکے۔ہم جن گلیوں میں سے روزانہ گزرتے ہیں اگر کسی وقت انہیں میں سے سکتا - ہے یا