خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 188

خطبات محمود ۱۸۸ سال ۱۹۳۳ء کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا موت قبول کرو، پھر تم زندہ ہو جاؤ گے۔وہ حیران ہوئے کیونکہ جو پیالہ فرعون اُنہیں پلا رہا تھا، وہی اللہ تعالٰی نے انہیں دیا۔فرعون نے فیصلہ کیا تھا تم مرجاؤ۔انہوں نے کہا ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں۔اس لئے ہم خدا تعالیٰ سے فریاد کریں گے۔لیکن جب انہوں نے خدا تعالیٰ سے فریاد کی تو وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ مرجاؤ۔انہیں دونوں جگہوں سے موت کا پیالہ ہی ملا۔وہ حیران تھے کہ فرعون کو دوست سمجھیں یا خدا تعالی کو دشمن - فرعون اُنہیں زندہ کرنا چاہتا تھا یا خدا تعالی مارنا۔کیونکہ دنوں پیالوں پر موت لکھی ہوئی تھی۔وہ گھبرائے ان میں سے کمزوروں نے کہا ہم تو موت سے بچنے کیلئے آئے تھے۔اگر یہی پیالہ ہمیں پینا ہو تا تو وہیں کیوں نہ پی لیتے۔اتنی تکالیف برداشت کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ہم اس پیالہ کو پینے کیلئے تیار نہیں۔ہم سے دھوکا کیا گیا ہے۔اگر موت ہی ہمیں ملنی تھی تو کیوں ہم سے زندگی کا وعدہ کیا گیا تھا۔اتنی امیدیں دلانے کے بعد ہمیں قوم میں کیوں شرمندہ کرایا۔وہ ہنسیں گے کہ بیوقوف موت سے بھاگے تھے، وہاں بھی موت ہی نصیب ہوئی۔وہ اس مشکل کو حل نہ کر سکے۔سوائے اس کے کہ ان میں سے کمزوروں نے کہا کہ ہم یہ پیالہ پینے کیلئے تیار نہیں۔عزت کی زندگی جس کا ہم سے وعدہ تھا، وہ ہمیں دو۔یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم تھی۔فرعون انہیں تباہ کرنا چاہتا تھا۔موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا تمہارے سب لڑکے مارے جائیں گئے۔لازما لڑکیاں غیروں سے بیاہی جائیں گی۔تمہاری نسل مٹ جائے گی اور غیروں کی نسل جاری رہے گی، تم اس موت سے بچو اور ذلت کی زندگی برداشت نہ کرو۔خدا نے تمہیں بتایا ہے کہ حیات کا پیالہ تمہارے لئے کنعان کی زمین میں تیار ہے۔انہوں نے گھر بار چھوڑا مال جو نہ اٹھایا گیا وہیں چھوڑا۔عزت سے ہاتھ دھوئے ایک باقاعدہ حکومت کا آرام کھویا۔وہ نکلے اور چل پڑے۔قرآن مجید میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَهُمْ الُوفٌ ہے۔یعنی وہ چند ہزار تھے۔ان میں سے بہت سی عورتیں بچے بھی ہوں گے۔عام طور پر قریباً پانچواں حصہ بالغ مرد ہوتے ہیں۔پھر ان میں کچھ بوڑھے بھی ہوں گے۔متمدن اقوام میں سے چھ فیصدی مرد جنگ کے قابل ہوتے ہیں اور غیر متمدن قوموں میں سے سولہ فیصدی۔اگر وہ پچاس ہزار بھی ہوں تو ان میں سے زیادہ سے زیادہ آٹھ ہزار لڑائی کے قابل مرد ہوں گے۔وہ بھی نا تجربہ کار پیتھیرے بھلا کیا جانیں کہ جنگ کیا ہوتی ہے۔انہوں نے کہا لاؤ جو تم نے وعدہ کیا تھا۔ایک زبردست قوم کے لوگ جن کے چہرے خون سے بھرے ہوئے تھے جنہیں اگر دائیں طرف عرب کے جنگجوؤں ،