خطبات محمود (جلد 14) — Page 173
خطبات محمود 147 سال ۱۹۳۳۳ء بھی ایسی بھیانک ہے کہ رؤیا دیکھتے ہوئے یک لخت میری آنکھ کھل گئی۔اور اس کا میرے دل ایک عجیب بوجھ تھا۔میں اسے دل سے نکالنا اور بھلانا چاہتا تھا مگر یہ پھر غالب آجاتی تھی یہاں تک کہ میں نے اسے بھلانے کی بجائے سمجھنے کی کوشش شروع کردی۔اور غور کرنے پر مجھے معلوم ہوا کہ یہ تو ایک نہایت عجیب بات تھی۔اور اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ جب کبھی کسی مومن جماعت کو اللہ تعالی قائم کرتا ہے تو اس کے سپرد ایسے کام کر دیتا ہے جنہیں لوگ خود کشی سمجھتے ہیں ان جماعتوں سے اللہ تعالی کی راہ میں اپنی جانیں، اپنے مال اپنے اوقات اور اپنی عزت و آبرو سب کچھ قربان کر دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔یہاں تک کہ لوگ کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ پاگل ہیں اور خود کشی کر رہے ہیں۔لیکن اللہ تعالٰی ان لوگوں کیلئے ایک نگران مقرر کرتا ہے جو اس بات کا اندازہ کرتا رہتا ہے کہ جماعت کی قربانی آخری حد سے آگے نہ بڑھنے پائے۔اور ان کیلئے زہر کا مترادف نہ ہو جائے بلکہ اس سے نیچے نیچے رہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ سب زہر ایک مقررہ حد تک نہایت مقوی ہوتے ہیں۔سنکھیا خطرناک قسم کا زہر ہے۔مگر پرانے ملیریا میں جب کونین دیتے دیتے تھک جائیں تو اس کی مقررہ مقدار سے فائدہ ہوتا ہے۔پھر آتشک جیسے موذی مرض کا علاج بھی پارہ اور سنکھیا وغیرہ زہروں کے مرکبات سے کیا جاتا ہے۔اسی طرح سرطان اور پرانے زخم وغیرہ جو اچھے نہیں ہوتے ان میں بھی سنکھیا وغیرہ کھلاتے یا اس کی دھونی دیتے ہیں۔اسی طرح افیون بھی زہر ہے مگر ہزارہا ادویات میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ افیون آدھی طب ہے۔پھر بیش ایک نہایت خطرناک زہر ہے جس کی تھوڑی سی مقدار بھی انسان کو ہلاک دیتی ہے۔مگر بیش ہی ہے جس سے گری ہوئی طاقت کو دوبارہ قائم کیا جاتا ہے۔جن لوگوں کو مردانہ قوتوں کے متعلق مایوسی ہو چکی ہو وہ ربیش وغیرہ کے نسخوں سے ہی صحت یاب ہوتے ہیں۔غرض جب اللہ تعالی کوئی رسول مبعوث کرتا ہے تو اس کے ساتھ جو دینی تعلیم ہوتی ہے اس کے رو سے ایسی قربانیاں کرنی پڑتی ہیں کہ ایک حد سے گزر کر خودکشی کے مترادف ہو جاتی ہیں مگر اس سے نیچے نیچے وہ ترقی کیلئے ضروری ہوتی ہیں۔جیسے قرآن کریم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو کیونکہ اس کے بغیر روحانی زندگی حاصل نہیں ہو سکتی۔مگر اتنا نہیں کہ بالکل تہی دست ہو جاؤ اور نہ ہی ہاتھوں کو بالکل روک رکھو۔اسی طرح جانوں کی قربانی کا حکم ہے۔قرآن کریم میں جنگ احد کے متعلق آتا ہے کہ منافق کہتے اگر ہمیں علم ہوتا لڑائی کر