خطبات محمود (جلد 14) — Page 172
خطبات محمود ۱۷۲ سال ۱۹۳۳ء بیٹھے ہے۔دوسری پر میں سمجھتا ہوں کہ میں بیٹھا تھا۔ہم سے ہٹ کر مشرق کی طرف کچھ لوگ اور ہیں جو ابتداء میں ہماری طرف متوجہ نہیں تھے۔میز پر ایک چھوٹی سی شیشی یا گلاس جیسا عرب لوگ قہوہ نوشی کیلئے استعمال کرتے ہیں اور ایک بوتل ہے۔جس میں میں سمجھتا ہوں زہر ہے۔میں نے بوتل میں سے کچھ قطرے گلاس میں ڈالے ہیں اور پانی یا کوئی اور پینے کی چیز حل کرنے کیلئے اس میں ملائی ہے۔گویا میں اُسے پینا چاہتا ہوں۔رویا میں ہی مجھ پر یہ اثر ہے کہ یہ ایسا زہر ہے جو قاتل ہے اور جس سے خود کشی کی جاتی ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ دشمن سلسلہ بھی یہی سمجھتا ہے کہ میں خود کشی کر رہا ہوں۔اور چاہتا ہوں کہ وہ یہی سمجھتا رہے۔لیکن میں بخوبی جانتا ہوں کہ پینے کیلئے میں نے جو ڈالا ہے وہ اتنا زہر نہیں کہ ہلاک کر سکے بلکہ اتنی مقدار دوائی ہے۔ہاں مخالف یہی سمجھتا ہے کہ یہ خود کشی کرنے لگا ہے۔اتنے میں میں نے مڑ کر دوسرے لوگوں کی طرف دیکھا۔اور پھر مڑا ہوں کہ اس زہر کو پی لوں۔مگر خیال آیا کہ شاید اس مخالف نے میرے دوسری طرف متوجہ ہونے پر اس میں زہر کی مقدار زیادہ نہ کردی ہو اور حیران ہوں کہ اب کیا کروں۔آخر میں فیصلہ کرتا ہوں کہ اسے گرادوں اور پھر مقررہ مقدار ڈال کر پیئوں۔لیکن ساتھ ہی مجھے یہ بھی خیال ہے۔کہ یہ مخالف جو سمجھتا ہے کہ میں خود کشی کرنے لگا ہوں۔اس پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ خود کشی نہیں کر رہا۔اس پر خیال کرتا ہوں کہ اسے نہیں پھینکوں گا۔لیکن پھر خیال آتا ہے کہ ممکن ہے اس نے اور زہر ملادیا ہو اور پھر اسے پھینک دینے کا فیصلہ کرتا ہوں۔مگر جب پھینکنے لگتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ یہ کہے گا اگر واقعی خود کشی کرنے لگا تھا تو اور چند قطرے ملا دینے کی وجہ سے ڈر کیوں گیا۔یہ بات اُس کے ارادہ کی اور زیادہ محمد ہوتی اور اس کیلئے آسانی پیدا کرتی۔اور واقعی جب میں پھینکنے لگتا ہوں تو وہ یہی اعتراض کرتا ہے۔کہ اگر واقعی آپ خود کشی کرنے لگے تھے تو پھر اسے پھینکنے نے کی کیا وجہ ہے مگر میں اسے گرا دیتا ہوں اور پھر اپنے ہاتھ میں بوتل لے کر اس میں اتنے ہی قطرے ڈالتا ہوں جو میں سمجھتا ہوں انتہائی خوراک ہے۔اور پھر گلاس کو بھی اور بوتل کو بھی اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھتا ہوں تاکہ میری نگاہ ادھر اُدھر ہونے پر اس میں وہ پھر اضافہ نہ کردے۔جو لوگ پرے ہٹ کر بیٹھے ہیں، ان میں سے بھی بعض اپنے دوست معلوم ہوتے ہیں۔ان میں سے ایک کو دیتا ہوں کہ اس میں پانی یا عرق ڈال دو۔یہ رویا ہے جو میں نے دیکھا اور ظاہر ہے کہ ایک مومن کیلئے خودکشی کی ظاہری شکل