خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 144

خطبات محمود ۱۴۴ سال ۱۹۳۳ء نظارت امور عامہ کو کوسنا شروع کر دیا کہ وہ براہ راست خلیفۂ وقت کو اس رنگ میں مخاطب نہیں کرسکتے تھے۔پس انہوں نے امور عامہ کو بُرا کہہ کر خلیفہ وقت کو بُرا بھلا کہا۔لیکن بہرحال اگر وہ ایمان دار ہیں تو بیوقوفی سے اور اگر بے ایمان ہیں تو شرارت سے انہوں نے امور عامہ پر قسم رقسم کے الزام لگائے اور لکھا کہ امور عامہ کے کارکن جلد بازی کرتے ہیں، ظلم کرتے ہیں، دباؤ ڈالتے ہیں، دھینگا مشتی کرتے ہیں۔حالانکہ وہ فیصلہ محلی طور پر میرا کیا ہوا اور میرا ہی لکھوایا ہوا تھا۔ایسے آدمیوں کے متعلق یا تو میں یہ سمجھوں کہ وہ سلسلہ احمدیہ کی حقیقت سے قطعی طور پر نا واقف ہیں اور یا مجھے معاف کریں، وہ اول درجہ کے احمق ہیں۔یا پھر یہ ہے کہ ان کے دلوں میں خلافت اور نظام سلسلہ کے متعلق کسی قسم کا ایمان باقی نہیں۔جس امر کے متعلق وہ شور مچارہے ہیں کہ دھینگا مشتی ہوئی زبردستی کی گئی، ظلم کیا گیا اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس نکاح کے متعلق تین دفعہ مجھ سے اجازت مانگی گئی اور تینوں دفعہ میں نے کہا کہ نکاح نہیں کرنا چاہیے۔مگر میری تین دفعہ کی ممانعت کے باوجود سمال ٹاؤن کمیٹی کے دفتر میں چند اوباش اور آوارہ گرد لونڈوں کو اکٹھا کر کے نکاح پڑھ دیا گیا۔خلیفہ وقت کے ایک حکم کا انکار بھی انسان کو جماعت سے مخارج کر دیتا ہے مگر یہاں۔حالت ہے کہ خلیفہ تین مرتبہ ایک بات کو دہراتا اور کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیئے، میں اس کی اجازت نہیں دیتا مگر وہی بات کرلی جاتی ہے۔پھر یہ بیوقوف کہتے ہیں ناظر امور عامہ ظالم ہے۔کہ اُس نے سزا دی۔حالانکہ اگر ان کے اندر غیرت ہوتی اور واقعہ میں ان کے دلوں میں ایمان ہوتا تو بجائے اس کے کہ امور عامہ یہ سزا دیتا، انہیں خود ایسے لوگوں کو سزا دینی چاہیئے تھی۔حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ایک دفعہ کسی منافق کا ایک یہودی سے جھگڑا ہو گیا۔وہ دونوں رسول کریم ﷺ کے پاس گئے۔اور رسول کریم ان نے جو فیصلہ فرمایا یا جو فرمانے لگے ، اُس منافق نے سمجھا کہ یہ میرے خلاف ہو گا۔تب اُس نے یہودی سے کہا بہتر ہے کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس چلیں اور وہاں سے فیصلہ کرائیں۔وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دروازہ پر پہنچے اور کہا ہمارا فیصلہ کردیجئے۔گفتگو کے دوران میں یہودی نے یہ بھی کہہ دیا کہ یہ رسول کریم ﷺ کے فیصلہ کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوا۔آپ نے کہا اچھا یہ بات ہے۔میں ابھی آتا ہوں یہ کہہ کر گھر میں گئے تلوار لی اور باہر آکر اُس منافق کی گردن اڑادی اور کہا جسے رسول کریم کا فیصلہ منظور نہیں اُس کا