خطبات محمود (جلد 14) — Page 123
خطبات محمود اپنی طرف کھینچ لیا۔اور میں نے محسوس کیا کہ اکثر افراد اپنے دلوں میں ویسا ہی درد محسوس کرتے ہیں جیسا کہ اپنے کسی عزیز کی موت پر ہو سکتا ہے۔باہر کی جماعتوں کے احساسات کا اندازہ تو میں لفظوں سے ہی لگا سکتا ہوں کیونکہ اُن کے چہرے میرے سامنے نہ تھے۔اور صحیح اندازہ انسان شکل سے ہی لگا سکتا ہے کیونکہ شکلیں مستقل طور پر تصنع سے بنائی نہیں جاسکتیں لیکن الفاظ بنائے جاسکتے ہیں۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ جماعت نے اس رنج کو مجموعی طور پر ایک سا محسوس کیا ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے کہا ہے میرا ارادہ ہے کہ اس بارہ میں کچھ خیالات تحریر کروں۔لیکن ابھی تک وہ پراگندہ ہیں اور مجتمع نہیں ہو سکے۔اس لئے کچھ دنوں تک تو انہیں تحریر میں نہیں لاسکتا۔لیکن ایک بات ہے جس کا اظہار میں ابھی کر دینا چاہتا ہوں۔اس لئے نہیں کہ کسی پر الزام دوں، اس لئے نہیں کہ کسی پر شکوہ کروں۔اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ میں نے دو دن تک اس سوال کے سارے پہلوؤں کو اُلٹ پھیر کر دیکھا ہے اور اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں۔اور واقعات بھی اس ایمان کی تصدیق کرتے ہیں جو قرآن کریم نے ہمارے دل میں پیدا کیا ہے کہ خواہ رنج ہو یا خوشی، اس کے پیچھے اصل ایک ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے منشاء کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔میرے دل کے جذبات خواہ اس درد کو محسوس کریں اور شدید طور پر محسوس کریں جو ایک طبعی امر ہے۔مگر ایمان اور عقل دونوں کہہ رہے ہیں کہ ہم اس جذباتی درد کا ساتھ نہیں دے سکتے۔وہ اس سے انکار نہیں کرتے کہ درد محمد رسول اللہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی ظاہر ہوچکا ہے۔مگر وہ کہتے ہیں کہ کتنا ہی یہ کبھی ہمارے دائرہ سے باہر کی چیز ہے، ہم اس میں شریک نہیں ہو سکتے۔جذبات، عقل اور ایمان اکٹھے ہو جاتے ہیں، کبھی جدا جدا اور کبھی دو دو۔تو میری عقل اور ایمان اگرچہ جذبات پر اعتراض تو نہیں کرتے مگر شریک ہونے سے بھی انکار کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ اس جگہ اللہ تعالٰی نے دائرے مختلف بنائے ہیں۔اس حادثہ سے قبل میں نے کئی رویا دیکھے اور بھی بہت سے لوگوں نے دیکھے جن میں اس کی طرف اشارہ تھا۔میں جب ڈلہوزی میں تھا تو اس وقت میں نے ایک رؤیا دیکھا کہ میں قادیان سے باہر ہوں۔اور قادیان سے اطلاع آئی ہے کہ وہاں ایک ایسی وفات واقع ہوئی ہے جس سے زمین و آسمان ہل گئے ہیں۔یہ خبر سن کر میں سوچتا ہوں کہ میں اب وہاں کیسے پہنچوں گا۔اُس وقت گویا کوئی میری تسلی کیلئے کہتا ہے۔ہندو یا سکھ کی موت ہوگی۔میں اس پر کہتا ہوں کہ ہندو یا سکھ کی موت پر تو زمین و آسمان