خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 88

سال ۱۹۳۳ء خطبات محمود شخص سفید AA بھی وہم ہی ہے۔گویا اس خیال میں لوگوں نے اس قدر ترقی کی کہ ہر چیز کی حقیقت سے انکار کر دیا۔اور وہی چیز جو کسی زمانہ میں سفسط کہلاتی تھی اب اسی بیہودگی اور لغویت کا نام برکلے کا فلسفہ ہے۔گویا اسے ایک اور رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔ایسے لوگ کہتے ہیں کہ اس میں شبہ ہی کیا ہے کہ سب کچھ ہمارا اپنا وہم ہے۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک چیز کو ایک دیکھتا ہے اور دوسرا زرد- گویا مختلف چیزیں مختلف نگاہوں میں مختلف طور پر نظر آتی ہیں۔اور یہ اسی لئے ہے کہ حقیقت میں وہ کچھ نہیں محض اپنے واہمہ کا انعکاس ہے۔اور اس زمانہ میں سائنس کے حملہ سے بچنے کیلئے عیسائیت نے اسی فلسفہ کو اختیار کیا ہے۔جب سائنس نے بعض ایسی تعلیمات پیش کیں جن کی عیسائیت پر زد پڑتی ہے تو پادریوں نے برکلے کے فلسفہ کے ماتحت ہی پناہ لی۔اور کہہ دیا کہ سائنس کیا ہے، موجودات و مشاہدات سب وہم ہیں اور حقائق پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑسکتا۔لیکن بعض لوگوں نے اس کے الٹ اس بات کو لیا ہے کہ موجودات جو ہمیں نظر آتی ہیں، یہی قطعی اور یقینی چیز ہیں۔اور انسانی دماغ جن چیزوں کو سوچتا ہے وہ سب ظنی اور وہمی ہیں۔اور اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ دونوں قسم کے خیالات اپنے اندر سچائی رکھتے ہیں۔ہر چیز اپنی ذات میں کچھ نہیں محض اللہ تعالی کے ارادہ اور کن کا انعکاس ہے۔اور اس میں بھی کیا شبہ ہے کہ انسان غلطی کرتا ہے چیز کچھ ہوتی ہے اور وہ کچھ سمجھتا ہے۔پس سچائی دونوں کے درمیان ہے اور در حقیقت دونوں چیزوں کی صحت سے سچائی پیدا ہوتی ہے۔سورج موجود ہے مگر اندھی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی۔پھر بینا آنکھ بے شک اسے دیکھ سکتی ہے مگر تاریکی میں کچھ بھی نظر نہیں آتا۔لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہو سکتے کہ آنکھ میں دیکھنے کی طاقت نہیں۔طاقت تو ضرور ہے مگر بیرونی روشنی کے بغیر اس سے کام نہیں لیا جاسکتا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہی قانون مقرر فرمایا ہے کہ دو چیزیں مل کر علم پیدا ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں وہ فرماتا ہے کہ ہم نے ہر چیز کا جوڑا پیدا کیا ہے اے۔اسی طرح علم کیلئے بھی جوڑا ہے۔باہر کی چیزیں جب دماغ سے ملتی ہے تو علم پیدا ہوتا ہے۔علم کیا چیز ہے؟ دراصل بچہ ہے جو انسانی دماغ اور باہر کی چیزوں کے ملنے سے پیدا ہوتا ہے جن لوگوں کے دماغ میں نقص ہو وہ باہر کی چیزوں سے غلط نتائج اختیار کرلیتے ہیں۔اور جب باہر کی چیزوں میں ا نقص ہو تو ذہن اس کی تکمیل نہیں کر سکتا اور اس وقت بھی غلط نتیجہ پیدا ہوتا ہے۔صحیح نتائج ،