خطبات محمود (جلد 14) — Page 318
خطبات محمود A سال ۱۹۳۳ء اپنے بزرگوں کو صحیح رنگ میں مانتے ہیں دوسروں کی نسبت ان کی حالت بہتر ہے۔ان کی تعلیم پر اگر عمل کیا جائے تو دنیا پرامن بن جائے اور ایک نمایاں تبدیلی نظر آئے۔ایسی تعلیم کب جھوٹی ہو سکتی ہے۔اس کے برعکس ان کی تعلیم سے اگر بدی پیدا ہو تو ہم کہیں گے کہ وہ شیطان کی تعلیم ہے۔کیونکہ ان بزرگوں کی تعلیم شیطان کے خلاف تھی۔وہ شیطان سے بچنے کی تلقین کرتے اور تجاویز بتاتے تھے۔اگر وہ شیطانی تعلیم کے حامل ہوتے تو شیطان کی مخالفت نہ کرتے۔کون ایسا بیوقوف ہے جو خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارے؟ ان کے حملے شیطان پر ہوتے تھے۔بھلا شیطان کب شیطان پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔یہ نکتہ قرآن میں موجود تھا۔مگر کسی کو اس کا علم نہیں تھا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کرشن ہونے کا دعویٰ کیا تو مسلمانوں نے آپ پر کفر کے فتوے لگانے شروع کر دیئے مگر آج تمام مسلمان مانتے ہیں کہ تمام مذاہب کی بنیاد صداقت پر ہے۔چوبیس سال کے بعد آج تعلیم یافتہ مسلمانوں کا طبقہ دیگر مذاہب والے دوستوں سے کہتا ہے کہ دیکھو ہمارا مذہب کتنا اچھا ہے کہ آپ کے بزرگوں کو بھی بزرگ کہتا ہے۔حضرت مسیح ناصری کے متعلق عقیدہ تھا کہ وہ آسمان پر ہیں۔اس عقیدہ کو بہت اہمیت دی جاتی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اگر اس کی تردید کی۔یہ صداقت اتنی مقبول ہوئی کہ اب لوگ اس کے متعلق بھی کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ تو تھا ہی نہیں۔سو ظاہری اقرار کے لحاظ سے نیا آسمان اور نئی زمین بن چکی ہے۔لیکن عملاً بھی تو نیا آسمان اور نئی زمین بنانی چاہیئے۔آسمان کی پیدائش میں خدا کا ہاتھ ہے لیکن زمین ہمارے ہاتھوں میں ہے۔صرف آسمان کا اچھا ہونا ہمارے لئے کافی نہیں زمین کا اچھا ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ایک مسلمان سو دینار کا ایک گھوڑا لایا۔ایک اور مسلمان وہی گھوڑا اس نئے مالک سے خریدنے کیلئے آیا۔گھوڑا اچھا تھا خریدار نے کہا میں اس گھوڑے کی قیمت دو سو دینار پیش کرتا ہوں مالک نے کہا میرے گھوڑے کی قیمت سو دینار ہے میں دو سو دینار کیسے لے سکتا ہوں۔یہ کتنا بڑا تغیر تھا جو رسول کریم ﷺ نے کیا کہ آپ سے پہلے جو زمین تھی آپ نے اس کو بدل دیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام پہلی زمین کو بدلنے کیلئے تشریف لائے مگر اس مادی زمین کو بدلنے کیلئے نہیں بلکہ اعمال کی ایک نئی زمین پیدا کرنا مقصود تھا۔خدا تعالیٰ نے چاہا کہ وہ ہمارے اعمال کو حضرت مسیح موعود