خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 315

خطبات محمود ۳۱۵ سال ۱۹۳۳ء ہے۔میں نے دیکھا کہ مجھ میں خدائی قدرتیں آگئیں اور میں نے ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین بنائی۔مخالفین اس پر اعتراض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرزا صاحب نے شرک کے کلمات کے اور اپنی ذات کی طرف خدائی طاقتیں منسوب کی ہیں۔لیکن جو شخص سر تا پا توحید میں ڈوبا ہوا ہو اور پکار پکار کر کہہ رہا ہو کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار اس کے متعلق ایک منٹ کیلئے بھی یہ خیال کرنا کہ کوئی مشرکانہ کلمہ اس کے منہ سے نکل سکتا ہے سوائے کسی بیوقوف کے اور کسی کا کام نہیں۔لہذا ہمارے سامنے شرک کا تو سوال ہی نہیں سوچنا یہ ہے کہ آخر اللہ تعالٰی نے یہ رویا کیوں دکھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس رویا کے وہ معنے نہیں کئے جو اغیار سمجھے یا جو مفہوم عام طور پر آپ کی جماعت میں سمجھا جاتا ہے۔ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس رویا کی حقیقت پر غور کرے۔میرا خیال ہے اس رویا کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو اپنے فرائض کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔روزانہ عام لوگ مرتے ہیں لیکن کوئی خاص تغیر نہیں ہوتا۔دنیا کی جو حالت پہلے ہوتی ہے وہی موت کے بعد رہتی ہے۔کبھی مسلمانوں نے توحید کی خاطر جانیں دیں۔ہر قسم کی قربانیاں کیں۔اسلام کو پھیلایا۔اور اس طرح دنیا میں ایک نمایاں تغیر پیدا ہو گیا۔اب مسلمان قبروں کو سجدے کرتے اور مردوں سے مرادیں مانگتے ہیں، شرک میں مبتلاء ہیں۔اب بھی وہی لا إله ہے لیکن اب وہ کوئی تغیر پیدا نہیں کرتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پڑھنے والے اس کا مفہوم " جانتے ان کا مسلمان ہونا برائے نام ہے۔غیر مسلم تو ایک حد تک معذور ہیں کیونکہ ان کا میلان ہی شرک کی طرف ہے۔لیکن وہ مسلمان جو دن میں پانچ دفعہ اقرار عبودیت کرے، نماز اور اذان میں توحید کی شہادت دے، اس کی مشرکانہ حرکات بہت زیادہ قابل مواخذہ ہیں۔حضرت مسیح موعود سے پہلے بھی دنیا کی وہی حالت ہو چکی تھی جو رسول کریم ! سے پہلے تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے خداوند تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ایک نیا آسمان اور نئی زمین بنائیں تا باہر سے آنے والا آدمی یہ سمجھے کہ یہ آسمان اور یہ زمین بالکل نئی