خطبات محمود (جلد 14) — Page 309
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کوشش کرو ان لوگوں کو زیر احسان بناؤ۔انہیں اپنے دلائل کا شکار کرو۔اور کسی قسم کی گھبراہٹ کا اظہار نہ کرو کیونکہ فتح بہر حال ہمارے لئے مقدر ہے۔دوسری چیز جلسہ سالانہ ہے۔اس کے متعلق اختصار کے ساتھ یہ کہہ دیتا ہوں کہ جلسہ کی تاریخیں قریب آرہی ہیں۔اس کیلئے اول چندہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اور مجھے افسوس ہے کہ اس سال چندہ کی رفتار ست ہے۔شاید دوستوں کو عادت ہو گئی ہے کہ میری طرف سے تحریک ہونے پر وہ زیادہ توجہ کرتے ہیں مگر اس سال میں نے تحریک نہیں کی کیونکہ میں اس عادت کو دور کرنا چاہتا ہوں۔مجھے جس ہفتہ کی رپورٹ موصول ہوئی ہے گزشتہ سال کے اسی ہفتہ میں چندہ اس سال کی نسبت ڈیوڑھا آچکا تھا۔گزشتہ سال اس ہفتہ میں بارہ ہزار آیا تھا۔مگر اس سال اس ہفتہ میں آٹھ ہزار آیا ہے۔حالانکہ اس سال جس طرح بجٹ بنایا گیا تھا یعنی نادہندوں کی نگرانی اور ست ت لوگوں سے بھی وصولی کا انتظام کیا گیا تھا اس کو مد نظر رکھتے ہوئے گزشتہ سالوں کی نسبت آمد زیادہ ہونی چاہیے تھی۔بہر حال یہ کام ہو رہا ہے۔اور تحریک جاری ہے۔اور قادیان والوں نے بھی امید ہے اس میں حصہ لیا ہو گا۔میرے پاس جو رپورٹ آئی ہے اس میں یہاں کی جماعت کا نام ہوگا۔ان جماعتوں میں تھا جو کام کر رہی ہیں۔پس جلسہ کیلئے مالی قربانی بھی ضروری ہے۔لیکن قادیان والوں کیلئے اس کے علاوہ جسمانی قربانی بھی ہے۔یعنی انہیں کام کرنا چاہیے اور مکانات دینے چاہئیں۔مکانوں کے لحاظ سے ہمیں ہر سال دقت محسوس ہوتی ہے۔اس کی وجہ ایک یہ بھی ہے کہ لوگ باہر سے اپنے رشتہ داروں یا دوستوں کو لکھ دیتے ہیں کہ مکان چاہیے اور وہ ان کیلئے انتظام کرلیتے ہیں۔اور ان کے آرام کی خاطر جماعت کے آرام کو مدنظر نہیں رکھتے۔اس طرح کھلی جگہیں محدود افراد سے رک جاتی ہے۔اور جن کے رشتہ دار یہاں نہ ہوں ان کو مشکل ہو جاتی ہے۔جن لوگوں نے اپنے رشتہ داروں کو جگہ دینی ہو انہیں بھی چاہیئے کہ وہ منتظمین کے ذریعہ دیں۔اس سے انہیں یہ بھی فائدہ ہوگا کہ مہمانوں کی خدمت میں انہیں منتظمین کی طرف سے بھی مدد ملے گی۔وہ کھانا پہنچائیں گے، پانی، روشنی وغیرہ کا انتظام کریں گے۔ایک فائدہ اس کا یہ بھی ہوگا کہ زائد جگہ وہ دوسرے مہمانوں کو دے کر اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔اس لئے دوستوں کو چاہیے کہ پانچ چھ روز تکلیف اٹھا کر بھی مہمانوں کیلئے جگہ کا انتظام کریں۔آخر مہمان بھی تو تکلیف اٹھاتے ہی ہیں۔ہمارے ہاں بھی بہت سے مہمان آتے ہیں۔اور ہم ایک دو کمرے اپنے لئے رکھ کر سب مکانات ان کے واسطے خالی کر دیتے