خطبات محمود (جلد 14) — Page 305
خطبات محمود ۳۰۵ سال ۱۹۳۳ء آتا ہے کہ آپ مُردے زندہ کرتے تھے۔اس کا یہی مطلب ہے کہ وہ بھی اس قسم کے شیر تھے۔پہلے وہ مارتے تھے پھر زندہ کرتے تھے یعنی نئی زندگی عطا کرتے تھے۔پس گھبرانے کی کیا بات ہے۔وہ خدا جس نے پچیس سال قبل افغانستان میں انقلاب کی خبر دی تھی۔جس نے بتایا تھا کہ وہاں ہمارے بھائی اس طرح مارے جائیں گے۔اور پھر ظلم کا انجام بھی بتادیا تھا، وہ اب بھی موجود ہے۔افغانستان کے متعلق بتائے ہوئے واقعات کے پورا کرنے میں کیا تمہارا کوئی دخل ہے۔کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے اس کیلئے کوئی کام کیا ہو۔امان اللہ خان کو تباہ کرنے میں مدد دی یا نادرشاہ کی امداد کی یا اس مصیبت کو وارد کیا جس کی ظلم کے نتیجہ میں پیدا ہونے کی خبر پیش از وقت دی گئی تھی۔پس سوچو کہ جس خدا نے افغانستان کے تخت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق اُلٹ دیا کیا تم سمجھتے ہو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تخت گاہ کا وہ خدا نہیں کہ یہاں احراری آئیں اور تمہارے اندر کسی قسم کی گھبراہٹ پیدا ہو۔یاد رکھو احراری تو کیا خواہ دنیا کے بادشاہ بھی مخالفانہ ارادوں سے یہاں آئیں، رنے کی کوئی بات نہیں۔یہ مانا کہ وہ ہم کو مار سکیں گے مگر خود بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔پھر کوئی اور قوم پیدا ہوگی جس کے ہاتھ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جھنڈا ہوگا۔وہ ہمیں مار سکتے ہیں مگر اس جھنڈے کو نیچے نہیں کر سکتے۔احراریوں کی تو کیا حیثیت ہے کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ خواہ سب دنیا کے بادشاہ کھڑے ہو جائیں تب بھی وہ اس جھنڈے کو نہیں جھکا سکتے۔پس تم اپنے کسی دشمن سے مت گھبراؤ کیونکہ تمہارے پاس وہ طاقت ہے جس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔بلی اور چوہا کا باہم کتنا بیر ہے۔مگر وہ بھی اس کے متعلق وسعت قلبی سے کام لیتی ہے۔کیونکہ وہ جانتی ہے کہ میرے جھپٹے کی مار ہے۔تمہارے ہاتھوں میں وہ طاقت نہیں جو دعاؤں میں ہے۔اور اگر تم دعاؤں سے کام لو تو ہاتھوں کی طاقت کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔اِلَّا مَا شَاءَ اللہ کہ خدا کا یہی منشاء ہو۔لیکن اس صورت میں اَلْاِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِہ سے پر عمل ہوگا۔پس جماعت کے ذمہ دار لوگوں کا فرض ہے کہ جماعت کی اخلاقی حالت کا خیال رکھیں۔یہ کہنا صحیح نہیں کہ کوئی نوجوان تھا۔جس کی طرف فلاں غلطی منسوب کی گئی، نوجوانوں کے بھی ہم ذمہ دار ہیں۔قرآن شریف میں آتا ہے۔قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا ہے۔پس اگر ہم میں سے کوئی قابلِ اعتراض حرکت کرے خواہ لاعلمی سے ہی کرے تو بھی ہم اس کی۔