خطبات محمود (جلد 14) — Page 293
خطبات محمود ۲۹۳ سال ۱۹۳۳ء صدمه ہے۔ہمیں مجھے ہمیشہ ہی حیرت ہوئی ہے کہ قادیان کے لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے وہ یہ ہے ہے کہ ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر حملہ ہوتا بیشک رسول کریم ﷺ سے محبت ہے۔عشق ہے مگر باوجود اس کے ہم اللہ تعالیٰ کی توحید کو یہ نہیں پہنچا سکتے۔اور اگر ہم پہنچائیں تو یہ رسول کریم ﷺ سے دشمنی ہوگی۔وہ چیز جس نے رسول کریم ال کی آخری گھڑیوں کو تکلیف دہ بنا دیا وہ یہی تھی۔ورنہ آپ نے فرمایا تھا۔خدا تعالیٰ کا ایک بندہ تھا۔اس سے خدا نے پوچھا تم دنیا میں رہنا چاہتے ہو یا ہمارے پاس آنا چاہتے ہو۔تو اس نے کہا اے خدا میں تیرے پاس آنا چاہتا ہوں۔اب تو مجھے اپنے پاس بلائے۔رسول کریم اے نے اپنا حال ہی بیان فرمایا تھا مجلس میں جب آپ نے یہ بات بیان فرمائی تو لوگوں نے سمجھا کہ آپ نے ایک مثال سنائی ہے۔شاید یہودیوں میں کوئی شخص ایسا گزرا ہو یا عیسائیوں میں۔مگر حضرت ابو بکر میں اللہ یہ بات سن کر رو پڑے۔ایک صحابی کہتے ہیں لوگوں نے حضرت ابوبکر کی طرف دیکھنا شروع کیا اور کہا اس بڑھے کو کیا ہو گیا۔کسی بندہ سے کہا گیا تھا کہ تو دنیا میں رہنا چاہتا ہے یا خدا کے پاس آنا چاہتا ہے اور اس نے کہا میں خدا کے پاس آنا چاہتا ہوں۔اس سے اس کا کیا بگڑا کہ یہ رونے لگ گیا۔مگر دراصل رسول کریم ﷺ نے اپنا حال بتایا تھا۔اور خبر دی تھی کہ اب آپ دنیا میں زیادہ دیر نہیں رہیں گے۔اس وجہ سے حضرت ابوبکر رو پڑے۔جب رسول کریم ﷺ نے آپ کی نہ تھمنے والی رقت کو دیکھا تو فرمایا ابوبکر کا مجھ سے اس قدر تعلق ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کے سوا میں کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا۔پھر فرمایا مسجد میں جس قدر کھڑکیاں کھلتی ہیں، ان میں سے سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے سب بند کردی جائیں اے۔اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی اپنی خواہش تھی کہ اللہ تعالی آپ کو بلا لے۔اور گو بظاہر کام پورا نہیں ہوا تھا۔اور حضرت عمر " جیسے انسان نے بھی آپ کی وفات پر کہہ دیا تھا کہ آپ پھر واپس آئیں گے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظاہری نظروں میں کامل طور پر اشاعت اسلام کا کام نہیں ہوا تھا۔مگر باوجود اس کے رسول کریم ال نے سمجھا جتنا کام آپ نے کرنا تھا، وہ کرچکے۔اور آپ کی خواہش ہے کہ اب اللہ تعالٰی کے پاس چلے جائیں۔لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول کریم کو مرض الموت میں سخت تکلیف ہوئی۔آپ بار بار فرماتے اللہ تعالٰی یہود و نصاری پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا تے۔گویا باوجود رض د