خطبات محمود (جلد 14) — Page 275
خطبات محمود ۲۷۵ سال ۱۹۳۳ء کوئی بہانہ مل جائے جس سے میں انہیں الگ کرنے میں کامیاب ہوں۔اور میں ہمیشہ بہانہ ڈھونڈتا رہا ہوں کہ مجھے ان پر شرعی طور پر گرفت کرنے کا کوئی موقع مل جائے اور میں انہیں جماعت سے خارج کردوں۔میرا پہلے بھی یہ رویہ تھا کہ ایسے لوگوں کو اصلاح کا موقع دیتا اور جب بھی مجھے کوئی ذرا بہانہ مل جاتا انہیں معاف کر دیتا۔مگر ایک سال سے بلکہ اسی سال کے شروع سے میں سمجھ رہا ہوں کہ ایسے لوگ جماعت پر بار اور اس کی کمزوری کا موجب ہو رہے ، ہیں۔اور ایسے لوگوں کو جماعت سے نکال دینا ان کی موجودگی سے زیادہ بہتر ہے۔پس اس کے منافق آدمی اگر ایسے خیالات کا اظہار کریں گے تو ان کے اس قسم کے اقوال میری مدد کرنے اور میرا ہاتھ بٹانے والے ہوں گے۔اور میں جو انہیں جماعت سے نکالنے کا موقع تلاش کرتا رہتا ہوں میرے لئے اپنے ارادہ کو عملی جامہ پہنانے میں کامیابی ہوگی۔لیکن میں انہیں نکالوں یا نہ اللہ تعالیٰ کے حضور وہ جماعت سے خارج ہی ہوں گے۔ایسے لوگ دراصل سب سے زیادہ بد قسمت ہوتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں پر یہ شعر بالکل چسپاں ہوتا ہے کہ۔نه خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے CT وہ دنیا سے قطع تعلق کر کے ایک ایسی جماعت میں شامل ہوتے ہیں جو لوگوں میں بدنام ہے۔اور پھر یہاں آکر بھی وہ اپنی منافقت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے سے محروم رہتے ہیں۔اس طرح وہ نہ دنیا کے رہتے ہیں نہ دین کے۔پس سب سے بدتر حالت منافقین کی ہوتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے منافقین کے متعلق فرمایا ہے کہ۔فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِيه - وہ دوزخ کے نچلے حصہ میں ہوں گے۔بظاہر کافر سب سے زیادہ نقصان رساں نظر لیکن حقیقت یہ ہے کہ منافق اس سے بھی زیادہ ایذاء رساں ہوتا ہے۔اس لئے اسے ہے۔سزا بھی زیادہ دی گئی ہے۔کافر باہر سے حملہ کرتا ہے مگر منافق اندر رہ کر اور جماعت میں شامل ہو کر نقصان پہنچانے کے درپے ہوتا ہے۔اور باہر اگر پاخانہ کے ڈھیر پڑے ہوئے ہوں تو وہ اتنی تکلیف نہیں دیتے جتنی ایک پیپ سے بھری چھوٹی سی پھنسی انسان کو تکلیف دیتی ہے۔منافقین کے خیالات کی نہ میں پرواہ کرتا ہوں اور نہ سلسلہ کی ترقی میں وہ کوئی خاص روک بن سکتے ہیں۔کیونکہ منافق علیحدہ ہو کر اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا اندر رہ کر نقصان پہنچایا کرتا ہے۔ایسا منافق جو بات بات پر نکتہ چینی کرنے والا اور قربانی و ایثار کی خواہش اپنے اندر رکھنے والا نہ ہو وہ خدا کی درگاہ سے راندہ ہوا ہوتا ہے۔اور راندہ ہوا اتنا نقصان نہیں پہنچاتا جتنا