خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 268 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 268

: خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء اب کوئی غیر قوم مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔تفرقہ اسی طرح پڑتا ہے کہ جب کسی مفسد کی کوئی بات سنی جائے تو جوش میں آکر بغیر تحقیق کئے اسے درست مان لیا جائے۔اور لٹھ لے کر دوسرے کے مقابل پر انسان نکل کھڑا ہو۔لیکن اگر قلب میں سنجیدگی ہو جب کوئی بات بیان کرے تو کسے اچھا میں تحقیق کروں گا۔اگر یہ بات کہی گئی ہے تو میں پوچھوں گا کہ کیوں کی گئی۔پھر اگر میرا قصور ہوا تو میں اپنی اصلاح کرلوں گا۔اور اگر دوسرے کا قصور ہوا تو اسے ملامت کروں گا تو تفرقہ ڈالنے والا خاموش ہو کر چلا جاتا ہے۔پس علاوہ اس کے مسلمانوں میں یہ مادہ پیدا ہونے سے ہمارے لئے سہولت ہو گئی ہے۔مسلمانوں کی عام حالت کے لحاظ سے بھی یہ خوشخبری ہے۔اور امید پڑتی ہے کہ اگر یہ مادہ ان میں ترقی کرتا گیا تو آئندہ فتنے ان میں نہیں اُٹھیں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ بہت جلد ترقی کر سکیں گے۔مگر ہمارے لئے یوم التبلیغ اپنے اندر جو سبق رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے راستہ کھول دیا ہے۔اگر ہم توجہ کریں گے تو ترقی ہوگی اور اگر نہ کریں گے تو نہیں ہوگی۔یہ یوم التبلیغ فرض ہے اور فرض کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔مگر رسول کریم ال فرماتے ہیں۔انسان خدا تعالیٰ کا قرب فرائض سے نہیں بلکہ نوافل سے حاصل کرتا ہے ہے۔خلیفۂ وقت نے جو کہا اور تم نے مانا وہ تو فرض ادا ہوا۔لیکن اللہ تعالیٰ کا قرب نوافل سے ملتا ہے۔اسی لئے رسول کریم ﷺ نے فرائض سے نوافل زیادہ رکھتے ہیں۔ظہر کے چار فرض ہیں۔مگر آٹھ سنتیں اور نوافل الگ ہیں۔عصر کے ساتھ یوں تو سنتیں نہیں مگر نوافل کے طور پر چار رکعت پڑھ لی جاتی ہیں۔مغرب کے وقت تین فرض دو سنتیں اور دو نفل ، عشاء کے وقت چار فرض، دو سنتیں، تین وتر اور پھر بیٹھ کر دو سنتیں ادا کی جاتی ہیں۔صبح کی نماز کے وقت دو فرض اور دو سنتیں ہیں۔مگر اس سے پہلے رات کو تہجد کے وقت آٹھ رکعت نفل پڑھے جاتے ہیں۔اور اگر اشراق کو شامل کر لیا جائے تو دو نفل وہ ہو جاتے ہیں۔گویا پینتیس (۳۵) رکعت نوافل رکھے گئے ہیں۔اور یہ بھی وہ جو مسنون ہیں ورنہ ان کے علاوہ بھی عبادت کرنے کا حکم ہے۔اس کے مقابلہ میں سترہ (۱۷) رکعت فرائض ہیں۔گویا نوافل ڈگنے سے بھی زیادہ ہیں۔پھر فرض کی تو تعداد مقرر ہے مگر نفل کی حد ہی نہیں۔پس جب نوافل سے قرب الہی حاصل ہوتا ہے تو مقامی طور پر ہر جماعت کو ہمیشہ تبلیغ کی طرف توجہ کرنی چاہئیے۔اور جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اپنی جگہوں پر ہفتہ وار پندرہ روزہ