خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 266

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہوں۔جب تک اس رنگ میں تبلیغ نہ کی جائے گی اثر نہ ہوگا یوں تو اللہ تعالیٰ نے رحمت کا ایک چھینٹا برسایا ہے اور لوگ آپ ہی آپ احمدیت میں داخل ہوتے رہتے ہیں۔لیکن اس میں شبہ نہیں کہ اصولی طور پر ابھی ہماری جماعت نے بہت کم تبلیغ کی ہے۔عام طور پر ان کی وہی مثال رہی ہے کہ جیسے کوئی شکاری تیر چلائے اور اس کا ہر تیر خطا جائے۔مگر اتفاقاً کوئی شکار کو بھی جاگے اور وہ گر پڑے- اب تک نشانے پر پہنچنے والے تیر بہت کم چلائے گئے ہیں۔اس لئے سوچنا چاہیے کہ اگر تیر خطا ہو کر اس قدر شکار کر سکتا ہے تو نشانے پر اگر تیر لگتے جائیں تو کس قدر شکار ہوں گے۔لوگوں کی اس تعداد اور رفتار سے جو جماعت میں داخل ہو رہی ہے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے ہمارے لئے اتنا بڑا شکار جمع کر رکھا ہے کہ ہمارے تیر خالی ہو ہو کر بھی ہزاروں کو کھینچ لاتے ہیں۔پھر اگر ارادہ عزم اور صحیح طریق کے ساتھ تیر چلائے تو کس قدر کامیابی ہو سکتی ہے۔پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ اصولی طور پر تبلیغ کرے اور اپنی طاقت کو ضائع نہ کرے۔باقی مخالفت کوئی ایسی چیز نہیں جس سے ہم گھبرا سکیں بلکہ مخالفت اگر سنجیدگی اور اخلاص سے کی جائے تو مخالفت کرنے والے میں کچھ نہ کچھ دین کی محبت ضرور ہوتی ہے۔آج ہی مجھے تازہ ڈاک سے گالیوں سے بھرا ہوا ایک خط ملا ہے۔اس کے پڑھنے سے صاف طور پر مجھے معلوم ہوا ہے کہ لکھنے والے کے دل میں دین کی محبت اور اسلام کا درد ہے جس سے مجبور ہو کر اس نے خط لکھا۔وہ خط راولپنڈی سے آیا ہے لیکن خدا تعالیٰ نے انسان کی زبان ایسی بنائی ہے کہ اس کی وجہ سے بعض قو میں معلوم کی جاسکتی ہیں۔اس خط کی زبان بھی ایسی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص ہزارے کے علاقہ کا ہے۔ہمارے ایک دوست جو آج کل عربی پڑھانے پر مقرر ہیں۔اپنی طالب علمی کے زمانہ میں جب یہاں آئے تو اُس وقت میں حضرت خلیفہ اول سے پڑھا کرتا تھا آپ نے فرمایا میاں! ان کی زبان دیکھو۔یہ "ا" کو ہمیشہ "خ" کہیں گے۔اَلْحَمْدُ لِله نہیں بلکہ الْحَمْدُ لِلَّهِ کہیں گے۔اس خط میں بھی کئی جگہ خنفیہ خنفیہ لکھا ہوا ہے۔میں حیران ہوا کہ یہ کیا لفظ ہے۔بعد میں معلوم ہوا حنفیہ کو خنفیہ لکھا گیا ہے۔کیونکہ اس علاقہ کے لوگ ”حا" کو "خا" بولتے ہیں۔خط ہو لکھنے والے نے دھمکی بھی دی ہے کہ ایسا نہ ہو کہ خنفیہ جماعت کا کوئی آدمی آپ مارڈالے۔برا بھلا بھی کہا ہے اور ساتھ ہی لکھا ہے کہ اب جبکہ کئی آدمی ہندوؤں میں سے اسلام میں داخل ہو رہے ہیں آپ اسلام کے اندر ہو کر اس کے ساتھ کیوں دشمنی کررہے