خطبات محمود (جلد 14) — Page 264
خطبات محمود والا اگر انهماک سال ۱۹۳۳ تو - دیانتدار ہو تو قدرتی طور پر اسے یہ خیال آتا ہے کہ میں ان لوگوں کی باتیں سنوں ! تاکہ انہیں جواب دے سکوں۔اور جب وہ باتیں سنتا اور تردید کرنے کیلئے سلسلہ کا لٹریچر پڑھتا ہے تو آخر اس کا دل خود بخود احمدیت کی طرف مائل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اور اگر وہ غور و فکر سے لٹریچر پڑھتا رہے تو ایک دن احمدیت کا شکار ہو جاتا ہے۔پس مخالفت ہمیشہ فائدہ بخشتی ہے۔اور کبھی بھی مخالفت سے مومن کو گھبرانا نہیں چاہیئے بلکہ خوش ہونا چاہیے۔ہاں اللہ تعالیٰ کی غناء کو دیکھتے ہوئے دل میں خشیت رکھنی چاہیئے۔ڈر اور چیز ہے اور خشیت اور چیز ڈر ہمیشہ بزدلی پر دلالت کرتا ہے مگر خشیت الہی ایمان پر دلالت کرتی ہے۔پس بزدلی نہ ہو لیکن خشیت اللہ ضرور ہونی چاہیئے۔اس دفعہ دوستوں کے تجربہ سے ظاہر ہوا ہے کہ باوجود لوگوں کی شدید مخالفت کے اور باوجود اس کے کہ مولویوں اور دوسرے لوگوں نے مسلمانوں کو اکسایا اور جوش دلایا۔یہاں تک کہ بعض جگہ یہ بھی امید نہیں تھی کہ شہر کے کسی محلہ میں کوئی شخص ہماری بات سن سکے۔پھر بھی لوگوں نے نہایت ہی توجہ اور سے ہماری باتیں سنیں بلکہ بعض نے چائے وغیرہ سے خاطر تواضع کی اور بڑی محبت سے باتیں سنیں۔سو میں سے ایک مثال اس قسم کی پائی جاتی ہے کہ لوگوں نے مخالفت کی اور ننانوے مثالیں ایسی ہیں کہ لوگوں نے غیر متوقع طور پر ہماری باتوں کو سنا اور اقرار کیا کہ جب آپ اس ارادہ سے آئے ہیں کہ ہمیں اپنی باتیں سنائیں تو آپ کی مخالفت کرنا فضول ہے۔غرض اس دفعہ کے یوم التبلیغ سے تین باتیں ثابت ہوئی ہیں۔اول یہ کہ قرآن مجید کی یہ بات سچی ہے کہ فطرتِ انسانی میں نیکی رکھی گئی ہے۔ورنہ جس رنگ میں ہماری مخالفت شروع اگر اسی طرح کی تمام لوگوں کی ذہنیت ہوتی تو نہ معلوم کس قدر فساد ہوتا۔مگر چونکہ فطرتِ انسانی نیک ہے اس لئے تمام لوگ مشتعل کرنے والوں کے دھوکا میں نہیں آتے۔بلکہ سمجھتے ہیں کہ باتیں سننے میں کوئی حرج نہیں۔اگر اچھی بات ہوئی تو قبول کرلیں گے نہیں تو رد کردیں گے۔پس ایک تو ہمیں یہ معلوم ہوا کہ قرآن کریم نے جو یہ فرمایا ہے کہ فطرتِ انسانی نیک ہے۔ہمارے مشاہدہ نے بھی اس کی تصدیق کر کے ہمارے دلوں کو مطمئن کردیا ہے۔ایمان تو پہلے ہی مضبوط تھا لیکن جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا۔خدایا! تو مردے کس طرح زندہ کرے گا؟ اور کہا تھا کہ اس پر میرا ایمان تو ہے لیکن میں اس لئے سوال کرتا ہوں کہ لِيَطْمَئِنَّ قَلبی ہے تا مجھے مزید اسمینان ہو جائے۔اس طرح ہمارا