خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 254

خطبات محمود ۳۵۴ سال ۱۹۳۳ء ہو کر میدان جنگ میں کھڑے رہے۔صحابہ جوش اخلاص میں آپ کے گھوڑے کی باگ پکڑ کر روکنا چاہتے۔مگر آپ فرماتے چھوڑ دو میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔وہی پیغام ہے وہی پہنچانے والا ہے مگر ایک جگہ سے واپس آگئے اور دوسری جگہ کھڑے رہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ موقع اور محل کو دیکھ کر کام کرنا چاہیے۔ایک موقع ایسا بھی آسکتا ہے جب کہ واپس آنا منع ہو۔مثلا سیالکوٹ میں جب میں نے ایک دفعہ لیکچر دیا اور مخالفوں نے روکنا چاہا تو اس وقت میں نے سمجھا تھا۔میرا لیکچر بند کر دینا اور واپس چلے جانا سلسلہ کی ہتک ہے جسے کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔پس میں نے اس وقت یہی سمجھا کہ چاہے پتھر پڑیں، زخمی ہوں ہم میدان سے نہیں ہٹیں گے۔لیکن ایسے موقعے بھی آسکتے ہیں جب کہ واپس چلے آنا مناسب ہو۔پس موقع اور محل کے مطابق کام کرو اور بزدلی نہ دکھاؤ۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دشمن کے دل میں بھی محبت پیدا ہو جاتی ہے۔مثلاً طائف سے ہی جب رسول کریم ا واپس آرہے تھے تو ایک نہایت ہی اشد ترین دشمن نے جو ہمیشہ آپ کا مخالف رہا کرتا تھا جب آپ کی یہ حالت دیکھی تو وہ خود سامنے نہ جا سکا مگر اس نے اپنے غلام کو بلا کر کہا انگور توڑ کر انہیں کھلاؤ لے۔یہ احساس بزدل شخص کیلئے کبھی پیدا نہیں ہو سکتا۔پس بہادری دکھاؤ اور نرمی محبت اور خلوص سے دوسروں کو پیغام حق پہنچاؤ۔تمہارے سامنے یہ مقصد نہ ہو کہ تمہارا کو: زعب دوسروں پر بیٹھے بلکہ یہ مقصد ہونا چاہیے کہ دوسروں کو ہدایت حاصل ہو۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے، نہ معلوم اس میں مبالغہ پایا جاتا ہے صحیح واقعہ ہے بہرحال سبق آموز ہے۔آپ نے ایک دفعہ ایک نہایت خطرناک دشمن کو گرا لیا۔جب وہ گرچکا تو اس نے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔حضرت علی " اسے چھوڑ کر فوراً کھڑے ہو گئے وہ حیران ہوا اور کہنے لگا نہ آپ میری تلوار سے ڈرے اور نہ نیزے سے لیکن آب جو میں نے تھوک دیا تو آپ مجھے چھوڑ کر کیوں کھڑے ہو گئے۔آپ نے کہا اب تک میں تمہارے ساتھ خدا کیلئے جنگ کر رہا تھا۔لیکن جب تم نے تھوک دیا تو مجھے غصہ آگیا اور میں نے خیال کیا کہ اب میرا لڑنا نفسانیت کی وجہ سے ہو جائے گا اس لئے میں نے چھوڑ دیا لاہ - پس تبلیغ کرو مگر خدا کیلئے کرو۔نفسانی اغراض کے ماتحت تبلیغ کبھی بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔ہماری جماعت کو قائم ہوئے پچاس سال ہو گئے ہیں مگر ابھی تک اس نسبت سے ہماری جماعت نہیں پھیلی جس نسبت سے اسے پھیلنا چاہیے تھا۔جس کی وجہ یہی ہے کہ بعض لوگ کمزوری