خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 231 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 231

خطبات محمود ۲۳۱ سال ۱۹۳۳ جس کا ہمیشہ سے یہ دعوئی رہا ہے کہ وہ بلاوجہ کسی شخص یا جماعت کی مخالفت نہیں کرتا۔اور جہاں تک میرا تجربہ ہے گو غلطی ہر شخص سے ہو جاتی ہے اور اس اخبار سے بھی غلطیاں ہوئی ہوں گی مگر ایک حد تک یہ اخبار اپنے اس دعویٰ کے مطابق عمل کرتا رہا ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں، یہ بات جو اس نے پیش کی ہے اس قابل ہے کہ اس کا احترام کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ میں اسے قابل جواب سمجھتا ہوں۔ورنہ کئی لوگ جن کی طبیعت میں نیش زنی کا مادہ ہوتا ہے ایسی باتیں لکھتے رہتے ہیں جن کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔سب سے پہلے تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وہ بات جس کی طرف "انقلاب" ہمیں توجہ دلانا چاہتا ہے ہماری جماعت کے متعلق ہرگز نہیں کی جاسکتی۔وہ نسلی مذاہب جو سینکڑوں سال سے قائم ہیں۔کے متعلق اگر یہ بات کہی جاتی تو خواہ یہ غلط ہی ہوتی، اس کی ظاہری شکل معقول بنائی جاسکتی تھی۔لیکن ہماری جماعت تو اس پچاس سال کے عرصہ میں قائم ہوئی ہے جبکہ مسلمانوں میں نفاق و شقاق پیدا ہو چکا تھا۔اور جب مسلمانوں میں اتحاد کی کوئی صورت ہی نہ رہی تھی۔جب ہم سے کوئی شخص مخاطب ہوتا ہے تو ہم اس سے سوال کر سکتے ہیں کہ تم کس سے ان وہ خطاب کرتے ہو۔ہم میں سے وہ کون سا شخص ہے۔جس کی نسبت یہ کہا جاسکتا ہے کہ آباء واجداد سے احمدی چلا آرہا ہے۔ہماری جماعت تو بنی ہی تبلیغ سے ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۸۹۱ء میں دعوئی مسیحیت کیا۔اور ۱۸۸۸ء کے آخر میں بیعت لی اے۔گویا زیادہ سے زیادہ اس زمانہ کے ۴۴ سال بنتے ہیں۔اور مسیحیت کے زمانہ کو مد نظر رکھا جائے تو ۴۲ سال اور سوائے چند نوجوانوں کے جو اس دعوئی کے بعد احمدیوں کے ہاں پیدا ہوئے۔کثیر حصہ وہ ہے جو تبلیغ کے ذریعہ احمدی ہوا۔پس ہماری جماعت کو تبلیغ سے روکنے کے تو کوئی معنے ہی نہیں بنتے اس لئے کہ ہماری جماعت تو بنی ہی تبلیغ سے ہے۔اگر یہ تبلیغ فتنہ کا موجب تھی تو جس دن یہ جماعت شروع ہوئی، اس دن بھی فتنہ تھی۔اور جب یہ بڑھی تو گویا فتنہ بڑھتا گیا کیونکہ ۴۵ سال ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اکیلے تھے۔آپ نے دوسرے کو تبلیغ کی۔تو دو ہو گئے۔تیسرے کو تبلیغ کی تو تین ہوگئے۔پھر چوتھے کو تبلیغ کی تو چار ہو گئے۔پس ہم میں سے کس کو کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اپنے آباء واجداد کے مذہب پر ہو۔تبلیغ کر کے فتنہ پیدا نہ کرو۔ہر شخص کہے گا کہ میں تو اسی تبلیغ کے ذریعہ احمدی ہوا ہوں۔میرے باپ دادا کب احمدی تھے۔پس ہماری جماعت کے متعلق یہ کہنا کہ تبلیغ نہ کرو۔اس سے