خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 230

خطبات محمود دین ۲۳۰ سال ۱۹۳۳ء گا نہیں تو اس کے اعضاء بے کار ہو جائیں گے اور وہ ضعیف ہو جائے گا۔پس گو کھانا اور سونا جسمانی امور ہیں مگر اس وقت اس کیلئے روحانی بن جاتے ہیں۔ایسی ہی ضرورتوں کے ماتحت کے علاوہ بعض دفعہ دوسرے کام بھی ہمیں کرنے پڑتے ہیں۔مگر وہ ہمارا مقصود نہیں ہوتے بلکہ ہمارا اصل مقصد دین کا قیام اور اس کی اشاعت ہے۔اور اسے ہم ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں۔وہ دین کیا ہے اور آیا وہ دین ہے بھی یا نہیں۔یہ دوسری بحث ہے۔مگر بہرحال ہماری نگاہ میں وہ دین ہے۔اور ہم دین کی خدمت سمجھ کر ہی اس کیلئے کام کرتے ہیں۔اس لئے کوئی ایسی چیز اور کوئی ایسی دلیل جو ہمارے اس نقطہ نگاہ کے خلاف پڑے۔ہمیں اپیل نہیں کر سکتی۔اور نہ ہمیں اپنے مقصد سے پھرا سکتی ہے۔اگر کوئی شخص ہمارے دلوں تک پہنچنا چاہتا ہے۔تو اس کیلئے ایک ہی راہ ہے۔اور وہ یہ کہ وہ ثابت کردے کہ جس چیز کے پیچھے تم پڑے ہو وہ دین نہیں۔لیکن بغیر یہ بات ثابت کرنے کے اگر وہ یہ کہے کہ یہ دین تو ہو گا لیکن ہماری خاطر یا فلاں وجہ سے اس کی طرف سے توجہ ہٹا لو تو ایسے شخص کی باتیں ایسی ہی ہوں گی جیسے ایک بہرے آدمی کے سامنے کوئی شخص بات کرے۔کیونکہ وہ بات ہمارے کانوں میں داخل نہیں ہو سکتی۔میں نے پچھلے دنوں میں بعض مضامین دیکھے ہیں جو میرے لئے آج کے خطبہ کے محرک ہوئے ہیں۔اور بھی مضامین ہیں۔لیکن وہ ایسے رنگ میں ہیں کہ میں سمجھتا ہوں وہ قابل التفات نہیں۔لیکن اسی قسم کے مضامین میں سے وہ مضمون قابل التفات ہیں۔اور میں انہی کو سامنے رکھتا ہوں۔وہ مضمون اخبار "انقلاب" میں شائع ہوئے ہیں۔ان میں ہمارے یوم التبلیغ کے خلاف لکھا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ گویا یہ دن قائم کر کے ہم مسلمانوں میں فتنہ ڈالنا چاہتے ہیں۔دلیل یہ دی گئی ہے کہ جب تم تبلیغ کرو گے تو لوگوں کو جوش آئے گا اور جب جوش آئے گا تو وہ بھی اسی طرح بخشیں کریں گے۔اس طرح بعض جگہ احمدیوں کو جوش آجائے گا اور وہ دوسروں سے لڑیں گے۔اور بعض جگہ غیر احمدیوں کو جوش آجائے گا اور وہ احمدیوں سے لڑیں گے اور مسلمانوں کا اتحاد ٹوٹ جائے گا۔پھر ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ احمدیت کون سی نئی چیز پیش کرتی ہے۔وہی خدا ہے، وہی رسول ہے، وہی قبلہ ہے، وہی قرآن ہے، وہی نماز روزہ اور حج وغیرہ ہے۔اس میں کون سی ایسی نئی چیز ہے جس کی وجہ سے کے اتحاد کو اس کیلئے قربان کر دیا جائے۔چونکہ یہ مضامین ایک ایسے اخبار میں شائع ہوئے ہیں مسلمانوں