خطبات محمود (جلد 14) — Page 215
خطبات محمود ۲۱۵ سال ۱۹۳۳ء اور جماعت کے متعلق نگرانی کی جائے۔اگر کوئی ایسا ریکارڈ رکھے تو مجھ سے پوچھے بغیر اس کا فوراً بائیکاٹ کر دیا جائے اور مجھے صرف اطلاع دے دی جائے۔اور امور عامہ کو چاہیے کہ باہر کی جماعتوں کو بھی لکھے کہ اس کے خلاف پروٹسٹ کریں۔کیونکہ یہ ایسی بے حرمتی ہے جس کی ہم قطعاً اجازت نہیں دیں گے۔کیا تبلیغ کیلئے اس کے سوا اب اور کوئی رستہ نہیں رہ گیا۔بے شک اس طرح بھی " حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام دوسروں تک پہنچتا ہے مگر سوچنا چاہیے کس ذریعہ جب ہم چوہڑوں کے ہاتھ میں جو پاخانہ اور نجاست سے آلودہ ہوں، قرآن دے کر دوسروں تک نہیں پہنچاتے تو پھر ایک گندی اور گنہگار زبان سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کو دوسروں تک پہنچانا کس طرح گوارا کر سکتے ہیں۔یہ تبلیغ نہیں بلکہ تذلیل ہے۔یہ عزت کرسکتے نہیں بلکہ ہتک ہے۔پس بیرونی جماعتوں کو بھی اطلاع دی جائے کہ وہ پروٹسٹ کریں۔آگے یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ کوئی ایکشن لے یا نہ لے۔مگر ہمارے لئے آئینی پروٹسٹ کا جو رستہ کھلا ہے اس پر ضرور چلنا چاہیئے۔ہاں اگر کوئی ایسا ریکارڈ ہو جس میں صرف خوش الحانی نظمیں بھری گئی ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔لاکھوں کی جماعت میں ہزاروں لوگوں کے پاس گراموفون ہوں گے۔اور ان میں سے جس کے پاس وقت ہو اور اس قدر وسعت ہو کہ اس کا ایسے ریکارڈ خریدنا اسراف میں داخل نہ ہو وہ ضرور خریدیں گے۔لیکن گناہ سے ملوث کر کے ذلیل طریق پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام کو پیش کرنے کی ہم کبھی اجازت نہیں دے سکتے۔المزمل : ۵ الفضل ۲۱ - ستمبر ۱۹۳۳ء)