خطبات محمود (جلد 14) — Page 214
خطبات محمود ۲۱ ١٩٣٣ء ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام سے مقصود دنیا کی لذت حاصل کرنا نہیں۔آپ نے تو فرمایا ہے کہ ہمارا شعر و شاعری سے کوئی تعلق نہیں۔یہ محض اس لئے ہے کہ شاید کوئی اس ذریعہ سے حق کو پالے۔لیکن جب گراموفون یا ہارمونیم یا ڈھولک کے ساتھ اسے شروع کر دیا جائے تو پھر یہ کلام میراثیوں اور کنجریوں کیلئے رہ جائے گا۔شرفاء اس کا پڑھنا اور سننا پسند نہیں کریں گے۔پس اگر معمولی خوش الحانی سے یہ ریکارڈ بھرے گئے ہیں تو اجازت ہے کہ جماعت کے وہ لوگ جنہیں وسعت ہو، بیشک خریدیں۔لیکن اگر راگ یا ڈھولک وغیرہ اور مزامیر ہیں تو پھر صدر انجمن احمدیہ کو بھی چاہیئے کہ پروٹسٹ کرے اور اس کمپنی کے پاس بھی پروٹسٹ کرے۔نہ صرف یہ کہ ان ریکارڈوں کو احمدی خریدیں نہیں بلکہ اس کے خلاف سخت پروٹسٹ کریں۔کیونکہ ایسے رستے کھلنے سے بات کہیں سے کہیں پہنچ جائے گی۔مجھے رپورٹ دینے والے نے لکھا ہے کہ اس شخص کو جب کہا گیا کہ مفتیوں نے ریکارڈ سننے کے خلاف فتویٰ دیا ہوا ہے۔تو اس نے کہا کہ مفتیوں کا کیا ہے۔وہ ان باتوں کو کیا جانیں۔بے شک ان کا فتویٰ ابھی نامکمل ہے اور اس پر میں نے اپنا آخری فیصلہ نہیں دیا۔لیکن ہر بے حیا کا کام نہیں کہ مفتیوں کے فتاوی پر تنقید کرے۔ڈاکٹر کے نسخہ پر ڈاکٹر ہی کسی رائے کا اظہار کر سکتا ہے۔ماہر فن کے کام پر ماہر فن کو ہی کسی اعتراض کا حق ہو سکتا ہے اگر ہر شخص ڈاکٹر کے نسخہ کو رد کرنے لگ جائے تو دنیا میں موت ہی موت پھیل جائے۔بے شک ڈاکٹروں سے علاج کرانے پر بھی لوگ مرتے ہیں۔مگر پھر بھی اصل یہی ہے کہ جس کو کسی معاملہ میں کمال ہو، اس کی رائے کو وقعت دی جاتی ہے یہ نہیں کہ جو احمق اٹھے اور اس کے جی میں جو آئے بکتا جائے۔پس میں امور عامہ کو ہدایت کرتا ہوں کہ اس معاملہ کی تحقیق کرے اور اگر ثابت ہو کہ یہ ریکارڈ ڈھولک اور مزامیر کے ساتھ بھرا گیا ہے تو ایسے ذرائع اختیار کرے کہ اس کا انسداد ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود اپنی تصویر کھنچوائی۔لیکن جب ایک کارڈ آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا جس پر آپ کی تصویر تھی، تو آپ نے فرمایا کہ اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔اور جماعت کو ہدایت فرمائی کہ کوئی شخص ایسے کارڈ نہ خریدے۔نتیجہ یہ ہوا کہ آئندہ کسی نے ایسا کرنے کی جرات نہ کی۔حالانکہ کارڈ پر تصویر چھاپنا ایسی بے حرمتی نہیں جیسی کہ ڈھولک سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظمیں گانا۔پیس امور عامہ کو چاہیے کہ تحقیقات کرے