خطبات محمود (جلد 14) — Page 175
خطبات محمود ۱۷۵ سال ۱۹۳۳ء غیر مومن ویسی قربانی نہ کر سکتا۔ہمیں دیکھنا چاہیئے کہ کیا ہماری قربانیاں اس حد تک پہنچ گئی ہیں کہ دشمن کہہ رہے ہوں کہ یہ خود کشی کر رہے ہیں۔ہر جماعت کو اور ہر فرد کو اپنی اپنی جگہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہماری جانی و مالی قربانیاں ایسی ہیں کہ دشمن کہیں اب نہیں بچ سکتے۔یہ اپنے ہاتھوں موت کے منہ میں جارہے ہیں۔کیا ہمارے وقت اور عزت و آبرو کی قربانی اس حد تک پہنچ چکی ہے۔اگر پہنچ گئی ہے تو وہ جماعت یا فرد سمجھ لے کہ اس نے ایک حد تک انتہائی قربانی کی۔لیکن اگر یہ نہیں ، اگر دشمن اس کی بجائے یہ اعتراض کرتا ہے کہ ان میں اور ہم میں کیا فرق ہے؟ دونوں روپیہ خرچ کرتے ہیں، اوقات خرچ کرتے ہیں۔اگر یہ عزت کی قربانی کر سکتے ہیں تو ہم بھی موقع آنے پر اس سے دریغ نہیں کرتے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہماری قربانیاں اس حد تک نہیں پہنچیں جو انتہائی قربانی کی حد ہے۔یہ امر کہ ہماری قربانیاں انتہائی حد کو پہنچ گئی ہیں دو ہی طریق سے معلوم ہو سکتا ہے۔ایک یہ کہ خداتعالی خود کہہ دے اور الہام کے ذریعہ بتادے۔یا پھر نتائج کے ذریعہ پتہ لگ جائے یعنی اللہ تعالیٰ ایسے نتائج پیدا کردے کہ دنیا کے قدم اس قوم کے سامنے لڑکھڑا جائیں اور دشمن پر لرزہ طاری ہو جائے۔اگر تو الہام ہو یعنی خدا تعالیٰ کہہ دے کہ تمہاری قربانیوں کی مقدار پوری ہو چکی تو ایسا انسان سمجھ لے کہ اس نے اپنا حق ادا کردیا۔جیسا کہ قرآن کریم میں صحابہ کے متعلق آتا ہے۔فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ ہے۔یعنی ان میں سے بعض نے اپنا حق پورا ادا کر دیا اور بعض منتظر ہیں کہ موقع ملے تو ادا کریں۔یہ اشارہ ایک صحابی ہے کے متعلق ہے جو جنگ میں شریک نہ ہو سکے تھے۔لیکن اس کا انہیں اس قدر افسوس اور رنج تھا کہ جس طرح کسی عزیز کی موت کا ہو سکتا ہے۔وہ کہتے تھے محمد رسول الله ان جنگ کیلئے تشریف لے گئے اور اپنی جان کو خطرے میں ڈالا اور میں شامل نہ ہو سکا۔اس سے بڑھ کر افسوسناک بات اور کیا ہے۔ایسی حالت میں بے اختیار ان کے منہ سے نکلا۔اچھا پھر موقع آنے دو میں بتاؤں گا کہ کس طرح جنگ کی جاتی ہے۔پھر وہ ایک دوسری لڑائی میں شامل ہوئے اور ایسی جنگ کی کہ واقعی حق ادا کر دیا لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ اللہ تعالٰی کی بعض مصلحتوں کے ماتحت مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا اور رسول کریم اللہ سے مسلمان جدا ہو گئے۔اُن کی بھاگنے کی قطعا نیت نہ مگر پھر بھی حالت ایسی ہو گئی تھی کہ انہیں میل پاؤ میں پیچھے ہٹنا پڑا۔اس افراتفری میں ایک وقت ایسا آیا کہ رسول کریم ال ان کے ساتھ ایک وقت صرف ایک درجن اور ایک