خطبات محمود (جلد 14) — Page 174
خطبات محمود ۱۷۴ سال ۱۹۳۳ء ہوگی تو ہم ضرور رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیتے ہے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ انہیں علم نہیں تھا کہ لڑائی ہو گی۔بات یہ ہے کہ انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ لڑائی کیلئے مدینہ سے باہر نہ ں۔اور اس پر دو روز سخت بحث ہوتی رہی۔منافق باہر نکل کر لڑنے کو خود کشی قرار دیتے تھے اور جب وہ یہ کہتے کہ اگر ہمیں لڑائی کا علم ہوتا تو ضرور جاتے تو اس کا مطلب یہی تھا کہ ہم تو اسے لڑائی نہیں بلکہ خود کشی سمجھتے تھے اس لئے نہ گئے۔تو منافقوں نے اس وقت یہی کہا کہ یہ خودکشی ہے مگر اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ یہ خود کشی نہیں۔جب تک اس طرح جانیں قربان نہ کی جائیں اور ایسی انتہائی قربانی نہ کی جائے کہ اس سے ایک قدم آگے خود کشی ہو اور دشمن کی نظر میں وہی خود کشی ہو کمزور ایمان والے ساتھی بھی اسے خود کشی ہی سمجھتے ہوں۔لیکن ہم اللہ تعالی کی طرف سے عطا کردہ علم کی روشنی میں جانتے ہوں کہ یہ خود کشی نہیں۔یہ نکتہ تھا جو اللہ تعالی نے اس خواب کے ذریعے مجھے بتایا۔یہ نظارہ بتاتا ہے کہ ایک ایسی حد تک قربانی کرو کہ اگر ایک قدم بھی آگے بڑھو تو خود کشی بن جائے۔اور اگر اس حد سے پیچھے رہو تو قربانی مکمل نہ ہوگی اور فائدہ نہیں ہوگا۔پس میں سمجھا کہ اللہ تعالی کا منشاء یہی ہے کہ میں خطبہ میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاؤں اور بتاؤں کہ اگر ترقی چاہتے ہو تو اپنی قربانیوں کو اس حد تک پہنچادو کہ اُس سے ایک قدم آگے خود کشی ہو۔پس کیا بلحاظ اموال، اوقات اور کیا بلحاظ جانوں کے عزیز و اقارب کے وطن اور رشتہ داروں کی محبت اور عزت و آبرو کے قربانی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرو۔اور سب لحاظ سے قربانی کو اس حد تک پہنچا دو کہ دشمن کی نظر میں تو وہ صریح خود کشی ہو مگر ہم جانتے ہوں کہ وہ خود کشی نہیں۔ہاں اس سے ایک قدم آگے ضرور خود کشی ہے۔یہ چیز ہے جس سے جماعت ترقی کر سکتی ہے اور جب تک یہ نہیں ہوگی کامیابی محال ہے۔اس وقت تک جس قسم کی قربانیوں کو ہماری جماعت کے لوگ قربانیاں سمجھتے ہیں، ویسی تو بہت سی دوسری قومیں بھی کر رہی ہیں۔حالانکہ مومن و غیر مومن میں فرق یہی ہے کہ غیر مومن موت سے ڈرتا ہے مگر مومن ہرگز نہیں ڈرتا۔اور جب غیر مومن بھی ویسی ہی قربانیاں کرتے ہیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہماری قربانیاں موت کے مترادف نہیں۔کیونکہ مومن موت کو خوشی سے قبول کرتا ہے لیکن غیر مومن اس سے ڈرتا ہے۔پس معلوم ہوا ہے کہ جو قربانی ہم کرتے ہیں وہ موت کی حد تک نہیں پہنچی۔وگرنہ