خطبات محمود (جلد 14) — Page 171
خطبات محمود 121 سال ۱۹۳۳ء ایک رویا دیکھتا ہے جس کے ساتھ بعض کیفیات ہوتی ہیں۔جو اصل میں خواب کا حصہ نہیں وتیں بلکہ دنیا سے متعلق ہوتی ہیں۔مثلاً ایک شخص دیکھتا ہے کہ وہ گنا کھاتا اور خوش ہو رہا ہے یا بینگن کھا کر خوش ہو رہا ہے مگر مراد اس سے غم ہی ہے۔یہ خوشی دراصل دنیا سے متعلق کیفیت ہے۔چونکہ وہ گنے یا بینگن کو دیکھ کر دنیا میں خوش ہوتا ہے۔اس لئے وہ خوشی خواب کا حصہ نہیں۔یا ایک شخص بیان کرتا ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کوئی شخص کچا گوشت تقسیم کر رہا ہے اور میں نے اس کے ساتھ لڑ کر اپنا حصہ بھی لے لیا تو یہ شوق اور خوشی دنیا کا حصہ ہے۔جو اسے گوشت کو دیکھ کر حاصل ہوئی۔اصل خواب گوشت دیکھنا ہی ہے۔یا مثلاً ایک شخص خواب میں دیکھتا ہے کہ اس کا کوئی دوست مرگیا۔اور وہ روتا ہے تو یہ رونا دنیا کی کیفیت ہے جو دوست کے مرنے پر پیدا ہوتی ہے۔اصل یہی ہے کہ اس کے دوست کی عمر بڑھے گی یا اللہ تعالیٰ کی محبت اس کے اندر پیدا ہوگی۔اسی طرح ایک شخص سونے کے کنگن خواب میں دیکھتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔یہ خوشی اس لئے ہے کہ وہ سونے کو دنیا میں اچھا سمجھتا ہے، ورنہ تعبیر اس کی اچھی نہیں۔رسول کریم ﷺ نے خواب میں سونے کے کنگن دیکھے لیکن ! آپ چونکہ معرفت میں کامل تھے۔اس لئے آپ نے انہیں پسند نہیں کیا۔چنانچہ فرمایا کہ میں نے پھونک ماری اور وہ اُڑ گئے۔اس کی تعبیر آپ نے یہ فرمائی کہ دو کاذب مدعی میرے مقابل پر آئیں گے مگر ناکام رہیں گے اہ۔غرض میں جب رؤیا دیکھنے کے بعد اٹھا تو میری عجیب کیفیت تھی اور یہ ایسا نرالا رویا تھا جو کسی اثر کے ماتحت بالکل نہیں ہو سکتا۔اور اگر اس کی تعبیر مجھ پر جلد نہ کھل جاتی تو ایک لمبے عرصے تک میرے لئے تعجب اور پریشانی کا موجب بنی رہتی۔وہ رویا یہ ہے کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک کمرہ ہے جس کی بہت سی مشابہت اس گول کمرہ سے ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوئی سے پہلے مہمانوں کیلئے اور اپنے آرام کیلئے بنوایا تھا۔ہم چھوٹے چھوٹے تھے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اس میں مہمانوں کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے۔اور اگر مجالس مسجد میں نہ فرماتے تو وہاں بیٹھتے تھے۔رویا میں مجھ پر یہ اثر تو نہیں کہ یہ وہی گول کمرہ ہے مگر مشابہت اس سے ضرور ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ میں اس کے اندر ہوں۔وہاں ایک میز پڑی ہے۔ایک کرسی اس کے ایک طرف اور ایک دوسری طرف ہے شاید کوئی تیسری بھی ہو۔مگر مجھے اُس وقت خیال نہیں۔جو کرسی شمال کی طرف ہے اس پر ایک ایسا شخص بیٹھا ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ سلسلہ کا دشمن