خطبات محمود (جلد 14) — Page 170
خطبات محمود لکھا۔14 سال ۱۹۳۳ء ہوتی ہے۔اور بعض دفعہ نظارہ اچھا دکھایا جاتا ہے مگر اُس کی تعبیر بری ہوتی ہے۔میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ سارا کا سارا مضمون آپ نے کسی ایک کتاب میں لکھا ہے یا متفرق مقامات پر۔مگر ہے اور اس جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خواب میں ایک بہت بڑے نظارہ کی تعبیر چھوٹی ہونے کی مثال دیتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ چاند، سورج، ستارے آپ کو سجدہ کرتے ہیں۔مگر تعبیر کیسی معمولی نکلی کہ ماں باپ اور بھائی ان کے تابع ہو جائیں گے۔خواب میں تو دکھایا گیا کہ سورج، چاند، ستارے سجدہ کرتے ہیں مگر تعبیر یہ ہے کہ باپ، سوتیلی ماں اور گیارہ بھائی ان کی اطاعت کرتے ہیں۔یہ ایک بڑی خواب کی چھوٹی تعبیر کی مثال ہے۔پھر چھوٹی خواب کی بڑی تعبیر کی مثال آپ نے وہ دی ہے۔جس میں مصر کے بادشاہ نے دیکھا تھا کہ سوکھی گائیں بڑی گائیوں کو کھا گئی ہیں۔بظاہر یہ ایک کتنا چھوٹا سا نظارہ ہے۔اور بظاہر کتنی معمولی بات ہے مگر ایسا شدید قحط پڑا کہ ہزارہا میل کے علاقہ میں سات سال تک دنیا اس سے تباہ ہوتی رہی اور آخر آٹھویں سال اللہ تعالی کی مدد آئی۔اور اُس نے اِس بلا کو دور کیا۔اسی طرح کبھی برا نظارہ ہوتا ہے مگر تعبیر اچھی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے بعض خوابوں کی تعبیریں بیان فرمائی ہیں۔مثلاً آپ نے فرمایا کہ خواب میں پاخانہ نظر آئے تو اس کی تعبیر مال ہوتی ہے۔یا خون نظر آئے تو اس کے معنی بھی مال کے ہوتے ہیں۔اس کے برعکس بعض چیزیں اچھی ہوتی ہیں مگر ان کی تعبیر بری ہوتی ہے۔مثلاً خواب میں گئے کھانایا بینگن کھانا یہ اچھی چیزیں ہیں، مگر تعبیر ان کی رنج و غم کا پہنچتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص بکر الٹکا ہوا دیکھے تو اس کے معنی موت کے ہوتے ہیں۔یا کچا گوشت دیکھے جو سَیدُ الطَّعَامِ لَحْم کے مطابق بہت اچھی چیز ہے مگر اس کی تعبیر بھی غم ہے۔تو خوابوں کی تعبیر کا عجیب معاملہ ہوتا ہے۔خواب میں ایک شخص اپنے دوست کے متعلق دیکھتا ہے کہ وہ مرگیا ہے لیکن مراد اس سے یہ ہوتی ہے کہ وہ دین میں کامل ہو گیا یا اس کی زندگی لمبی ہوگی۔ہاں بعض دفعہ اس سے بے دینی بھی مراد ہوتی ہے۔خواب میں ہنستا ہمیشہ برا ہوتا ہے مگر رونے کی تعبیر خوشی ہے۔سونا دیکھے جو ایک قیمتی چیز ہے تو اس کے معنی رنج کے ہوتے ہیں لیکن اگر چاندی دیکھے جو سونے کے مقابلہ میں بہت کم قیمت رکھتی ہے تو اس کے معنی خوشی اور ترقی کے ہوتے ہیں۔یہ سب تعبیریں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے مختلف مقامات پر لکھی ہیں۔پھر آپ نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے کہ بعض دفعہ انسان