خطبات محمود (جلد 14) — Page 169
خطبات محمود 149 ۱۹ انتہائی قربانی کے بغیر کامل ترقی نہیں ہو سکتی (فرموده ۲۱ - جولائی ۱۹۳۳ء) سال ۱۹۳۳ء تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- چونکہ جس جگہ (پالم پور) اِن دنوں میرا قیام ہے۔وہ رستہ کے لحاظ سے اور مسافت کے لحاظ سے بھی ایسی ہے کہ نہایت آسانی سے پانچ چھ گھنٹہ میں یہاں پہنچا جا سکتا ہے۔اس لئے میرا ارادہ تھا کہ میں ایک دو جمعوں کے بعد آنے والے جمعہ کے دنوں میں قادیان نماز پڑھایا کروں گا۔اسی ارادہ کے ماتحت اس ہفتہ میرا ارادہ تھا کہ قادیان جاؤں اور جمعہ کی نماز پڑھاؤں۔اور اس کے بعد لاہور میں کشمیر کمیٹی کے اجلاس میں ہوتا ہوا واپس چلا جاؤں۔اس خیال کے بعد بعض مضامین میرے ذہن میں آئے اور میں نے خیال کیا کہ ان کے متعلق خطبہ میں میں اپنے خیالات ظاہر کروں گا۔لیکن آج ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ مجھے اپنا ارادہ بدلنا پڑا بلکہ اس کے اثر کے ماتحت وہ مضامین بھی ذہن سے نکل گئے۔وہ واقعہ ایک رویا تھا۔ایسی عجیب قسم کا رویا جس کو آنکھ کھلتے وقت میں سمجھنے سے بالکل قاصر تھا اور دل پر ایک عجیب ہیبتناک اثر تھا۔مگر جوں جوں اس کی ظاہری صورت کی ہیبت دور ہوتی گئی اور تعبیر روشن ہوتی گئی، اس کے اثر کی کیفیت بھی ساتھ کے ساتھ بدلتی گئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام علم الرؤیا پر بحث فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ ایک بہت بڑے خواب کی تعبیر چھوٹی ہوتی ہے۔اور بعض دفعہ چھوٹی خواب ہوتی ہے مگر اس کی تعبیر بہت بڑی ہوتی ہے۔بعض خوابوں میں برا نظارہ دکھایا جاتا ہے مگر اس کی تعبیر ا چھی